Punjab Teachers on strike fi
سوچ بچار

استاد کا احترام اور ہمارا معاشرہ

Punjab Teachers on strike

“میں استاد بنا کر بھیجا گیا ہوں”

یہ الفاظ دنیا کی اس عظیم ترین شخصیت کے ہیں جس نے انسان کو انسانیت کی تعلیم دی۔
جس نے انسان کو وحشی سے انسان بنایا۔
یہ استاد نبی کریم ہیں،ان کے اس فرمان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام میں استاد اور علم کو کتنی اہمیت حاصل ہے۔

غزوہ بدر میں جب کفار قیدی بن کر آۓ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حکم دیا کہ جو قیدی مسلمانوں کو تعلیم سے ہمکنار کرے گا وہ آزاد ہو جائے گا۔
ظاہر ہے کہ نبی کریم دینی تعلیم کی بات تو نہیں کر رہے تھے کیونکہ کفار کے پاس تو دین کا علم نہیں تھا لیکن آپ نے دنیاوی تعلیم بھی ویسے ہی ضروری سمجھی جیسے دینی تعلیم تھی۔

اسلام میں استاد کا اس سے بڑا رتبہ کیا ہو سکتا ہے کہ دشمن کو بھی کو قید سے صرف اس لئے آزادی مل جائے کہ وہ استاد ہیں۔

آج سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میری نظر سے گزری تو سوچا اس موضوع پر بھی کچھ لکھنے کی کوشش کی جائے۔
وہ ویڈیو گو کہ ترکی زبان میں تھی مگر اس کا ترجمہ بھی انگریزی میں درج تھا۔
ویڈیو میں ہوائی جہاز کا پائلٹ مسافروں کو مائیک پر ان میں موجود ایک شخص کا تعارف کراتا نظر آتا ہے کہ یہ صاحب میرے استاد ہیں۔
جہاز میں موجود مسافر استاد کے لئے تالیاں بجاتے ہیں۔
وہ شخص اپنی تعریف سن کر رونے لگ جاتا ہے اور اس دوران ائر ہوسٹس اس استاد کے لئے پھولوں کا گلدستہ لے کر آتی ہے اور تحفہ دینے کے بعد استاد کے ہاتھ چومتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ترکی آج ترقی کی راہ پر گامزن ہے کیونکہ ترکی کا معاشرہ استاد کی قدر کرنا جانتا ہے۔

پاکستان میں اشفاق احمد صاحب کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔
دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی کتب کے مصنف بھی تھے اور ٹی وی چینلز پر پروگرام بھی کرتے رہے ہیں۔

اشفاق احمد صاحب مرحوم اپنی کتاب زاویہ کے اندر روم میں قیام کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار وہاں اُن کا ٹریفک چالان ہوا اور اُنہیں بارہ آنے جرمانہ ادا کرنے کی سزا دی گئی، کچھ وجوہات کی بنا پر وہ جرمانہ ادا کرنے سے قاصر رہے تو اُنہیں عدالت میں حاضر ہونا پڑا۔ جج اُن سے سوال کرتے رہے مگر اُنہیں جواب دینے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ بس وہ یہی بول پائے کہ “جی میں یہاں پردیسی ہوں، اُس پر جج نے مجھ سے پوچھا آپ کرتے کیا ہیں؟ میں نے بڑی شرمندگی سے سر جھکا کر جواب دیا کہ جی میں ٹیچر ہوں۔ یہ سننا تھا کہ جج اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور سب کو کہا کہ “A teacher in the court” یعنی ایک استاد عدالت میں موجود ہے۔

ایک استاد عدالت میں موجود ہے

یہ سن کر سب احترام میں اپنی کرسیوں سے کھڑے ہوگئے۔

اشفاق احمد کہتے ہیں کہ پھر جج نے انہیں یوں مخاطب کیا جیسے بڑے ہی شرمندہ ہوں۔ اِسی شرمندگی میں جج نے کہا کہ “جناب آپ استاد ہیں، ہم جو آج جج، ڈاکٹر، انجینئر جو کچھ بھی بنے بیٹھے ہیں وہ آپ اساتذہ ہی کی بدولت ممکن ہو پایا ہے، مجھے بہت افسوس ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدِنظر رکھ کر آپ کو چالان ادا کرنا ہوگا کیونکہ بہرحال آپ سے غلطی ہوئی ہے مگر میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔”

اشفاق احمد نے لکھا کہ اُس روز وہ اِس قوم کی ترقی کا اصل راز جان گئے تھے۔

کہا یہ بھی جاتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کو بتایا گیا کہ جنگ میں ہمارے نہایت قیمتی افراد مارے گئے ہیں،ہم کیا کریں۔
ہٹلر نے کہا کہ کوشش کرو کہ اپنے اساتذہ کو کہیں چھپا دو اگر ہمارے اساتذہ محفوظ رہے تو ہم قیمتی افراد پھر سے تیار کر لیں گے۔

جاپان کی کہاوت ہے کہ استاد کی محفل میں گزرا ایک دن،ہزار دن پڑھنے سے بہتر ہے۔

یہ سب افسانوی باتیں نہیں ہیں بلکہ باشعور اور زندہ قومیں اپنے استاد کو ایسے ہی عزت دیتی ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ جب ہم گاؤں جایا کرتے تھے تو شہانی گاؤں کے موڑ پر ہی ایک دکان ہوا کرتی تھی۔
میرے والد صاحب جب بھی وہاں سے گزرتے ہوئے دیکھتے تھے کہ استاد چاند خان بیٹھے ہیں تو گاڑی روک کر ان سے ملنے کے لئے اتر پڑتے اور نہایت احترام کے ساتھ ملاقات کرتے۔
اس کے بعد ہمیں مخاطب کر کے بتاتے کہ یہ میرے استاد ہیں۔
آج تمھارا باپ جو کچھ بھی ہے،اس میں ان کا بہت بڑا اثر ہے۔
ایک انسان کی عظمت اور بڑے پن کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کا کتنا احترام کرتا ہے۔

ہماری بدقسمتی ہے کہ اسلام اور ترقی یافتہ ممالک میں جتنا احترام ایک استاد کو دیا گیا ہے،اتنی ہی تذلیل ہمارے معاشرے میں کی جاتی ہے۔

مردم شماری ہو یا الیکشن،ہمیں بائیس کروڑ عوام میں سے صرف استاد ہی نظر آتا ہے کہ جسے اس کام میں لگائیں۔
آپ بھی جانتے ہیں کہ ان کاموں میں کیسے کیسے افراد سے پالا پڑتا ہے۔
کس بے رخی اور تحقیر کے ساتھ مخاطب کیا جاتا ہے۔
ووٹنگ کے درمیان غصہ ڈیوٹی آفیسرز پر ہی نکلتا ہے جو کہ استاد ہوتا ہے۔
دنیا میں یونیورسٹی کے پروفیسرز کو تھنک ٹینک کا درجہ دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں یونیورسٹی کے پروفیسرز کو زبردستی پریذائڈنگ آفیسر مقرر کر دیا جاتا ہے۔
دنیا کے پروفیسرز جب جدید ترین تحقیق میں مصروف ہوتے ہیں،اس وقت پاکستان کے پروفیسرز اس بات میں مصروف ہوتے ہیں کہ کس امیدوار کو کتنے ووٹ ملے۔

ایران کے ایک بادشاہ نے اپنے زمانہ میں جدید ترین تعلیمی ادارے قائم کر دیئے،جس میں دینی و دنیاوی تعلیم کے لئے سب سہولیات میسر تھیں مگر اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہو سکے کہ عوام اس میں دلچسپی نہیں لے رہی تھی۔
بادشاہ بہت مایوس ہوا اور ایک عالم دین کے پاس جا کر شکوہ کیا کہ میں نے بے انتہا دولت اس لئے خرچ کی کہ ہماری قوم میں تعلیم کا رحجان پیدا ہو مگر سب بے سود رہا۔
اب آپ بتائیں کہ میں کیا کروں۔
عالم دین نے کہا کہ اس کا حل میرے پاس موجود ہے۔تم ایسا کرنا کہ کل فجر کی نماز کے بعد میرے پاس آنا۔
اگلے دن بادشاہ پہنچا تو عالم دین گھوڑے پر سوار ہو گیا اور بادشاہ کو کہا کہ اس گھوڑے کی لگام پکڑ کر مجھے وہاں لے چلو جہاں تم نے تعلیمی ادارے قائم کۓ ہیں۔
بادشاہ لگام پکڑ کر چل پڑا،جب منزل پر پہنچے تو عالم دین نے کہا کہ انشاءاللہ اب عوام اس جانب ضرور متوجہ ہو گی۔
بادشاہ کو کچھ سمجھ نہیں آئی لیکن خاموش رہا۔
کچھ دن کے بعد بادشاہ کو بتایا گیا کہ اچانک ہی تعلیمی اداروں میں داخلہ کے لئے بہت سے افراد آ چکے ہیں۔
بادشاہ حیران ہوا اور دوبارہ عالم دین کے پاس پہنچ کر پوچھا کہ آپ نے ایسا کیا کیا۔
اس نے کہا کہ یہ سب میں نے نہیں بلکہ تم نے کیا ہے۔
بادشاہ نے کہا کہ میں نے ایسا کیا کر دیا جو پہلے نہیں کر سکا تھا تو جواب دیا کہ اس دن جب تم میرے گھوڑے کی لگام پکڑ کر چل رہے تھے تو عوام نے دیکھا کہ ایک استاد کی اتنی شان ہے کہ بادشاہ بھی اس کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر پیدل چل رہا ہے بس اس دن سے عوام میں شوق پیدا ہوا کہ وہ بھی اس عزت دار اور مقدس شعبہ کا حصہ بنیں۔

زندہ اور باشعور قومیں استاد کو ایسے عزت دیتی ہیں لیکن ہم نے استاد کو عزت ہی کب دی۔
کبھی وہ کم تنخواہوں پر سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی پولیس تشدد سے خون آلود کپڑوں میں نظر آتے ہیں۔
کبھی ہسپتال میں ہتھکڑی لگی لاش نظر آتی ہے تو کبھی گاڑی میں تشدد زدہ لاش ملتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی نوجوان شعبہ تعلیم کو اپنی آخری ترجیحات میں رکھتا ہے۔

ہمارے بے حس معاشرے میں استاد کی سزا ہونی بھی یہی چاہئے۔
انہیں کس نے کہا کہ اس مردہ معاشرے کو تعلیم جیسے زیور سے آراستہ کرنے کا گناہ کریں۔

آج جب میں نے اس تحریر کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا تو سوشل میڈیا پر ایک ایسی تصویر میری نظروں کے سامنے سے گزری کہ جسے دیکھ کر مجھے نہایت صدمہ پہنچا۔
تصویر میں ایک شخص کرسی پر براجمان ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی دوسرا شخص زمین پر بیٹھا نظر آتا ہے۔
یہ دراصل لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کی پولیس چوکی کا منظر تھا۔
کرسی پر براجمان شخص پولیس کے سب انسپکٹر یونس ہیں جبکہ زمین پر بیٹھے شخص کا نام اشفاق احمد ہے جو کہ ٹھوکر نیاز بیگ میں قائم ایک سرکاری سکول کا ہیڈ ماسٹر ہے۔
اس ہیڈ ماسٹر کا جرم یہ تھا کہ اس کی چھت پر کوئی بچہ پتنگ بازی کر رہا تھا۔
پولیس جب اس گھر میں داخل ہوئی تو اس وقت اشفاق احمد کے گھر میں ان کی والدہ کی وفات پر دوست احباب تعزیت کے لئے آۓ ہوئے تھے لیکن پولیس نے اس خطرناک ترین جرم میں ملوث خطرناک ترین مجرم کو گرفتار کرنا فرض عین سمجھا۔
یہ منظر آپ ذرا اپنے تصور میں لائیں کہ ایک شخص کہ جسے ایک استاد نے ا ب پ پڑھنا سکھائی اور اسی تعلیم کی بنیاد پر آج وہ اس کرسی پر براجمان ہوا جبکہ اسے تعلیم دینے والا استاد اس کے سامنے زمین پر بیٹھا ہو تو آپ کیا محسوس کریں گے ؟
حالانکہ وہ ہیڈ ماسٹر اس سب انسپکٹر سے سرکاری گریڈ میں بڑا افسر ہو گا اور پتنگ بازی کب سے اتنا بڑا جرم ہو گئی کہ کسی سے ایسا سلوک کیا جائے ؟
کیا وہ بزرگ ہیڈ ماسٹر خود پتنگ اڑا رہا تھا جو اس کی اتنی تذلیل کی گئی ؟

یہاں میں آپ کو ایک اور واقعہ بھی سناتا چلوں جو کہ ایک دوست نے مجھے بتایا کہ وہ یونیورسٹی کا طالب علم تھا اور اس نے اپنے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ سے مشورہ لینا چاہا کہ میرے بھائی کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیرون ملک کی سپانسر شپ کی آفر ہے جبکہ دوسری طرف اس کی ائر فورس میں شمولیت بھی ہو گئی ہے تو ہم فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ہم کیا کریں۔

پروفیسر صاحب نے کہا کہ کچھ دن پہلے میں اپنے بچوں کو کالج سے لے کر آ رہا تھا کہ مجھے پولیس نے روک لیا۔

شناخت کروانے کا کہا،میں نے بتایا کہ میں یونیورسٹی کا پروفیسر ہوں اور ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ہوں۔
پولیس اہلکار یہ سن کر اپنے افسر سے مخاطب ہوا سر جی! اے شودا ماسٹر اے،اینوں جانڑ دیاں ؟ پروفیسر صاحب نے کہا کہ میں نے پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے،ڈاکٹر کہلواتا ہوں،بیس گریڈ کا سرکاری افسر ہوں اور ہزاروں نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم دے چکا ہوں مگر معاشرے میں میری حیثیت “شودے ماسٹر” کی ہے۔
اس لئے تم خود سے فیصلہ کر لو کہ اپنے بھائی کو شودا ماسٹر بنانا ہے یا قابل احترام افسر۔

اس دوست نے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ بھائی کو ائر فورس میں شمولیت اختیار کر لینی چاہئے۔
کچھ عرصہ بعد جب اس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ ہوئی اور ہم اسے گھر لے کر آ رہے تھے تو راستے میں ہماری گاڑی خراب ہو گئی۔

ہم ابھی وہیں رکے ہوئے تھے کہ پولیس کی ایک گاڑی آ کر رکی۔

میرا بھائی ائر فورس کی وردی میں تھا تو پولیس افسر گاڑی سے اتر کر آیا اور نہایت احترام سے مسئلہ پوچھا۔
بتایا کہ گاڑی خراب ہے تو اس نے فوراًِ وائرلیس کر کے کسی اور کو کہا کہ اس جگہ پر گاڑی کا ایک مکینک لے کر آؤ۔

کچھ دیر کے بعد ایک اور پولیس گاڑی مکینک لے کر پہنچ گئی اور جب تک ہم وہاں سے روانہ نہیں ہوۓ،پولیس ہماری حفاظت کے لئے کھڑی رہی۔
دوست نے کہا کہ مجھے فوراًِ اپنے پروفیسر صاحب یاد آ گۓ کہ اگر میرا بھائی بھی بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے پروفیسر بن جاتا تو کیا تب بھی پولیس ہم سے ایسا ہی اچھا سلوک کرتی ؟
شاید نہیں بلکہ ہرگز نہیں،ہمیں اس مسئلہ پر اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔

استاد کو عزت دینا ہو گی،اس کا وقار بلند کرنا ہو گا تاکہ ہمارا معاشرہ اچھے اساتذہ پیدا کر سکے تبھی ہماری قوم میں اچھے ڈاکٹرز بھی پیدا ہوں گے،اچھے سیاست دان پیدا ہوں گے اور اچھے سائنس دان بھی۔

عبیرہ فاطمہ
عبیرہ فاطمہ
تیزی سے بدلتی دنیا میں اپنے اصولوں پر قائم روح