sad baby girl fi
تعلیم و تربیت

بچے ڈرتے کیوں ہیں؟

sad baby girl

دو سال پہلے جب جمال صاحب میرے یہاں تشریف لائے تو وہ بہت پریشان لگ رہے تھے۔ اُن دنوں جمال صاحب ایک نجی ادارے میں جنرل منیجرکے عہدے پر فائز تھے اور خوش و خرم زندگی گزاررہے تھے۔ سلام دُعا سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے اپنا مسئلہ بیان کیا اور کہنے لگے:

“میری بیٹی سعدیہ 8 سال کی ہے۔ وہ بات بے بات جھجکتی ہے۔ ہر وقت کسی نہ کسی خوف اور اندیشے کا شکار رہتی ہے۔ خود سے کام کرنے سےبہت گھبراتی ہے، اور اکثر رات کو بھی ڈر کر اُٹھ جاتی ہے۔اب تو اسکول جانے سے بھی کترانے لگی ہے۔”

میں نے پوچھا: “سعدیہ بیٹی کی یہ کیفیت کب سے ہے؟”

جمال صاحب نے جواب دیا: “ڈرتی تو وہ پہلے بھی تھی لیکن جب سے یہ APS پشاور والا واقعہ ہوا ہے اس کے بعد سےتو وہ بہت زیادہ خوف زدہ رہنے لگی ہے۔”

میں نے پوچھا: “ذرا یہ تو بتائیے، چھٹی کے دن سعدیہ کے کیا معمولات ہوتے ہیں؟”

ہم تو ڈراؤنی فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں

“چھٹی کے دن ہم دیر تک سوتے ہیں اور گیارہ بجےتک اُٹھتے ہیں۔ پھر ناشتہ کرتے ہیں۔ ناشتے کے بعد سعدیہ ٹیبلٹ لے کر بیٹھ جاتی ہے۔” جمال صاحب نے بتایا۔ میں نے ٹوکا، “اتنی دیر سے کیوں اُٹھتے ہیں؟” کہنے لگے، “ہفتے کی رات اکثر ہم کوئی نہ کوئی فلم دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں جس کی وجہ سے رات سونے میں دیر ہو جاتی ہے۔”

میں نے پوچھا: “آپ کس طرح فلمیں دیکھتے ہیں؟”
“میں تو انگلش فلمیں ہی دیکھتا ہوں۔” جمال صاحب نے جواب دیا۔

میں نے پوچھا: “کِس قسم کی؟ مزاحیہ، سائنس فکشن یا ایکشن وغیرہ۔”

موصوف فرمانے لگے: “ہم تو ڈراؤنی اور خوفناک (Horror) فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ ہاں کبھی کبھار ایکشن مووی بھی دیکھ لیتے ہیں۔”

“بچے بھی آپ کے ساتھ فلمیں دیکھتے ہیں؟” میں نے پوچھا۔جواب آیا:

“جی ہاں، کبھی کبھار وہ بھی ساتھ بیٹھ جاتے ہیں۔ ویسے تو ہم لوگ صاف ستھری فلمیں ہی دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر ایسے ویسے مناظر آجائیں تو ہم انھیں آگے بڑھادیتے ہیں۔”

یہ سُن کر میرا شک یقین میں بدلنے لگا۔ میں نے کہا: “آپ بچی کا روٹین بتا رہے تھے۔ اچھا یہ بتائیے کہ دوپہر کے بعدوہ کیا کرتی ہے؟”

جمال صاحب کہنے لگے: “اس بارے میں تو آپ کو کچھ زیادہ نہیں بتا سکتا، کیونکہ دوپہر ہوتے ہی میں تو دوستوں میں نکل جاتا ہوں۔ ہاں جب شام میں واپس آتا ہوں تو اس کے ہاتھ میں ٹیبلٹ ہوتا ہے، اور رات میں وہ TV پر CID ڈرامہ ضرور دیکھتی ہے۔”

یہ سن کر میں مسکرایا اور کہا: “برادر، بچوں کو خوف دکھائیں گے تو اُن میں خوف ہی پیدا ہوگا نا۔”

وہ کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا، “آپ کی بیٹی خوفناک مناظر دیکھ دیکھ کر لاشعوری طور پر کسی خطرے کا انتظار کرنے لگی ہے۔ خوف بچوں کی ساری خود اعتمادی ختم کر دیتا ہے۔ اسی لیے وہ خود سے بڑھ کر کوئی کام نہیں کرپاتی۔ خوفناک ڈرامے اور ڈراؤنی فلمیں بچوں کو انجانے خوف میں مبتلا کردیتے ہیں اور اُن میں کم ہمتی اور بزدلی پیدا ہوجاتی ہے۔ APS کی خبر بھی اُس نے ٹی وی پرکئی بار دیکھی ہوگی؟” میں نےپوچھا۔
جمال صاحب نے سر ہلا کر میری بات کی تائید کی۔

میں نے کہا: “اس کا مطلب ہے APS کے واقعے نے اس کے انجانے خوف کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے اور اب خوف اس کے لاشعور سے نکل کر شعور تک پہنچ گیا ہے۔ خوف کے مناظر بار بار دیکھنے، اُن کا تذکرہ سننے اور خوف کے احساس کا تجربہ کرنے سے سعدیہ میں بزدلی ،کم ہمتی، اور جھجک پیدا ہوگئی ہے۔ آپ فوری طور پر ڈراؤنی فلمیں دیکھنا بند کر دیجیے اور کوئی ایسا TV سیریل یا ڈرامہ جس میں قتل وغارت، ڈکیتی اور دہشت گردی کے مناظر یا جن بھوتوں کی کہانیاں ہوں بچوں کو ہر گز نہ دکھائیے۔

جمال صاحب کہنے لگے، “پھرہم بچوں کوکیا دکھائیں؟”
میں نے کہا: “اوّل تو بچوں کو فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کی عادت ہی نہیں ہونی چاہیے اور اگر کچھ دکھانا ہی مقصود ہو تو آپ مزاحیہ فلمیں دکھائیے، تاکہ بچوں میں جو خوف پیدا ہوگیا ہے اُس کو مزاح کے ذریعے سے نارمل کر لیا جائے۔ باتوں باتوں میں سعدیہ سے اُن چیزوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کیجیے جن سے وہ خوف زدہ ہوتی ہے۔ گاہے بگاہے اُن باتوں کا مذاق اُڑائیے، تاکہ بچی اِن چیزوں کو حقیقت نہ سمجھے اور اُن سے وابستہ خوف بھی اُس کے دل سے دورہوجائے۔

APS کے واقعے کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے بچوں کو جنت کی حقیقت اور اُس کی نعمتوں کے بارے میں بتائیے۔ انھیں سمجھائیے کہ جنت کتنی حسین جگہ ہے، اور اس میں لوگ کتنے خوش رہتے ہیں۔ اپنی مرضی سے کھاتے پیتے ہیں۔ بہترین موسم ہوتا ہے۔ کوئی ذمہ داری بھی نہیں ہوتی وغیرہ وغیرہ۔ پھر یہ بتائیے کہ اس واقعے میں شہید ہونے والے بچے جنت میں ہیں۔ بظاہر وہ ہم سے بچھڑ گئے ہیں لیکن وہ جنت میں یہاں سے زیادہ پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔”

میں نے مشورہ دیا کہ جس طرح آپ ہر ہفتے اپنے دوستوں کے پاس جاتے ہیں، اسی طرح آپ اپنی فیملی کو بھی ہفتے میں ایک بار سیرو تفریح کے لیے لے جایا کریں اور وہاں ان کے ساتھ خوب ہنسی مذاق اور گپ شپ کیا کریں۔ بچوں کو اپنے طرز عمل سے اس بات کا احساس دلائیے کہ باپ ہونے کی حیثیت سے آپ ہر مسئلے میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اُن کےکھیل کود میں حصہ لیجیے۔ انھیں بہادری کے قصے سنایئے۔ بچوں کے ساتھ باپ کے بے تکلف ہونے کی وجہ سے بچوں میں احساسِ تحفظ پیدا ہوتا ہے۔”

یہ سُن کر جمال صاحب نے میرا شکریہ ادا کیا اور جانے کی اجازت چاہی،جاتے وقت ان کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔ جسے دیکھ کر مجھے اندازہ ہو گیاکہ آخر کار انھوں نے اپنے گھر کے ماحول کو بدلنے کی ٹھان لی ہے۔

عبیرہ فاطمہ
عبیرہ فاطمہ
تیزی سے بدلتی دنیا میں اپنے اصولوں پر قائم روح