purpose of education fi
تعلیم و تربیت

تعلیم کے بنیادی مقاصد اورنصاب کی ضرورت

purpose of education

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کرنیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

تعليمی عمل چار بنيادی عنا صر کا مجموعہ ہے۔ یعنی مقاصدے تعلیم، نصاب، طريقہ ہائے تدريس اور جائزہ لينے کے طريقے۔

مقاصد تعلیم کو اہم ترين عنصرکا اعزاز حاصل ہے۔ اس کو اگر تعليم کے عمل کا دِل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ مقصد تعلیم حقيقت ميں اس آلے کي مانند ہے جس کے تحت تعلیمی ادارے اپنےفرائض سر انجام ديتے ہيں اور قومي مقاصد تعلیم حاصل کرنے ميں معاون ثابت ہوتے ہيں۔ مقاصد تعليم کواگر نشانِ منزل سمجھا جائے تو نصاب اور طریقہ تدریس اس منزل تک پہنچنے ک ارستہ ہے اور جائزے کا عمل اس کی کامیابی جانچنے کا طریقہ۔

دين اسلام ميں تعليم کو ايک خاص اہميت حاصل ہے۔ کيوں کہ اسلام سراپا علم وعرفان کے حصول کا درس ديتا ہے۔ حضورنبي کريم ﷺ پر جو پہلي وحي نازل ہوئي اس ميں بھی علم اور ذرائع علم کی اہميت کے بارے ميں واضح فرامين موجود ہيں۔ سورۃالعلق کی روشنی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کا پہلا اور سب سے اہم مقصد خدا کی معرفت حاصل کرنا ہے۔ اس کے بغیرعلم اپنے حقیقی جوہر سے خالی ہے۔

علم اگر جوہر سے خالی ہو تو وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا۔ جیسےانسان کا بنيادي جوہرانسانيت ہے اور اگر انسان میں انسانیت نہ ہو تو وہ حیوان کہلائے گا۔ اسی طرح سورج ميں تپش، حدت اور روشنی باقی نہ رہے تو اپنے جوہرِ اصلي سے محروم ہو جائے گا اور اسے کوئي بھی سورج ماننے پر تيار نہيں ہوگا۔ اسی طرح اگر جنگلي جانوروں کے اندر سے حيوانيت نکال دی جائے تو وہ حيوان کہلانے کے حق دار نہيں رہيں گے ۔شير ايک خونخوار درندہ ہے ليکن اگر اس کو پنجوں اور دانتوں سے محروم کر ديا جائے تو اسديت اس کے ہاں سے رخصت ہو جائے گی اور وہ ان تمام خصوصيات سے محروم ہو جائے گا جو اسے شير بنانے کا سبب تھيں اگرچہ اس کی شکل و شباہت اور ہيئت و جسامت شير جيسي ہي ہو گي۔ اطباء حضرات جڑي بوٹيوں سے عرق نکال ليتے ہيں، اس عمل سے پہلے وہ بوٹياں بہت قيمتي تصور کي جاتي ہيں، ان کے دام وصول کیئے جاتے ہيں اور انہيں پوري حزم و احتياط سے ايک جگہ سے ووسري جگہ منتقل کيا جاتا ہے اور ان تمام مراحل سے گزار کر ان کا جوہر اصلي ان سے کشيد کر ليا جاتا ہے ليکن جب وہ بہت قيمتي بوٹياں اپنے اثاثہ اصلي سے محروم کر دي جاتي ہيں تو تھوڑي ہي دير بعد کوڑے کا ڈھيران کا مقدر بن جاتاہے اور وہ فاضل مادہ تصور کيا جاتا ہے۔ اسی لیے تعلیم کا حقیقی جوہر خدا کی معرفت حاصل کرنا ہے تعلیم سے اگر معرفت ہی نکال دی جائے تو کیا بچے گا۔

تخليق آدم ؑکے وقت اﷲ تعاليٰ نے انسان کو جس دولت سے نوازا تھا وہ ”علم الاسما” تھا، جس کي بنا پر حضرت آدم عليہ السلام کو تمام فرشتوں پر فوقيت ملي اور انسان اشرف المخلوقات کہلايا۔ اگر ہم مسلمانوں کي قديم درسگاہوں کا مطالعہ کريں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور ميں دنياوی وعصری علوم کو نصاب کا لازمی حصہ قرار ديا گيا۔ امام غزالی وہ پہلے مسلمان مفکر ہيں جنہوں نے باقاعدہ دنياوی علوم کو اسلامي نصاب ميں شامل کيا۔ آپ کے نقطہء نظر ميں نصاب اس طرح ہونا چاہيے کہ وہ دنيا اور آخرت دونوں کے لیے یکساں مفيد ہو۔ آپ نے فرض عين اور فرض کفايہ دونوں کو نصاب ميں شامل کيا۔ ابن خلدون نے علوم کو طبعي اور غير عقلي علوم کے دو گروپوں ميں تقسيم کيا ہے۔ سرسيد احمد خان اسلامي تعليم اور مغربي علوم ميں امتزاج وہم آہنگي پیدا کرنےکے قائل رہے۔ آپ کي دیرينہ خواہش تھي کہ مسلمانوں کے ايک ہاتھ ميں قرآن ہو، اور دوسرے ہاتھ ميں جديد علوم اور سر پر لا الہ الا اﷲ کا تاج سجا ہو۔ علامہ اقبال ؒ بذات خود حصول تعليم کو مقصد حيات گر دانتےتھے۔ آپ کے خيال ميں تعليم کا اصل مقصد خودی، اپني روايات کا پاس اور اپني بقا تھا۔

مفکرین اسلام کے مطابق نصاب ایسا ہونا چاہئے جو فرد کي ديني اور دنيوي زندگي کے الگ الگ پہلوؤں سے شخصيت کي مکمل تعمير و تشکيل کر سکے۔ مفکرین کے رجحان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کا دوسرا مقصد علم الاشیاء کا حاصل کرنا ہے۔

حضرت زيد بن ثابت ؓ نے آپﷺ کے حکم سے عبراني زبان سيکھی

انسان بننے کے ليے صرف انسانوں کے ہاں پيدا ہو جانا ہي کافي نہيں بلکہ اس کے اندر انسانيت کا جوہر ہونا بھي ضروري ہے۔ ماہرين لسانیات کہتے ہيں کہ لفظ “انسان” کا اصل مادہ يا مصدر “انس” ہے جس کا مطلب محبت، پيار، الفت اور چاہت ہے۔ پس جس کے اندر “انس” ہو گا وہی انسان کہلانے کا حق دار ہو گا اور جس کااندرون “انس” سے خالي ہو گا اسے کوئي حق نہيں کہ وہ اپنے آپ کو انسان سمجھے۔ ہم کہ سکتے ہیں کہ تعلیم کا تیسرا بڑامقصد انسانیت پیدا کرنا ہے۔

 

انسانيت اور حيوانيت دو متضاد الفاظ کے طورپر کثرت سے استعمال ہوتے ہيں۔ حيوان اپنے آپ کو دوسرے پر فوقيت ديتاہے، اپنا پيٹ بھرنے کے ليے دوسرے کا شکار کرتا ہے۔ حلال و حرام کي تميز کیے بغير اپنا دوزخ بھرتا ہے اور اپني ہوس نفساني مٹانے کے ليے دوسرے کو استعمال کرتا ہے۔ جانور کو ضبط نفس کا ملکہ حاصل نہيں ہوتا اسي ليے اس کے اندر برداشت کا مادہ بھي نہيں ہوتا۔ وہ اپني فطرت کے خلاف حالات سے سمجھوتہ بھی نہیں کر پاتا ہے۔ گھر ميں پالا ہوا پالتو جانور ہو يا جنگل ميں پلا بڑھا جنگلي جانور، صديوں سے ان کے ہاں کوئي ارتقا نہيں، وہ ہزاروں سال پہلے جس طرح رہتے تھے آج بھي اسي بودوباش اور خوردونوشت کے مالک ہيں۔ جانوروں کي ايک اور صفت يہ ہے کہ ان ميں شرم و حيا اس طرح نہيں ہوتي جس طرح انسانوں ميں اعلي اخلاق پائے جاتے ہیں، قدرت نے ان کے تن ڈھانکنے کا انتظام خود سے کر ديا ہے اور باہمي تعلقات ميں چونکہ رشتہ داری کے حرم و احترام سے جنگل کا قانون خالي ہے اس ليے جانوروں کے تعلقات میں یہ وصف بھي عنقا ہے۔ جانوروں کا طبقہ طہارت کے اس جامع تصور سے بھي خالي ہے جوانساني معاشروں کا بنيادي جز سمجھا جاتا ہے۔ جب ہم انسانیت کا مقصد حاصل کریں گے تو انسان میں موجود حیوانی صفات کی تہذیب کی جائے گی اس تہذیب کے بغیر تیار ہونے والی نسل تباہی اور بربادی کے علاوہ کچھ نہیں لائے گی

پس يہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم خدا کی معرفت، انسانیت اور علم الاشیا کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ايسا نصاب تعلیم تشکيل ديں جو فرد کي ديني اور دنياوي دونوں اعتبار سے شخصيت سازی اور کردار سازی کرے۔ اگر ہم آپﷺ کي تعليمات کو اپنے سامنے رکھيں تو ہميں يہ بات معلوم ہو گي کہ معلم انسانيت حضرت محمدﷺ ؐنے نہ صرف ديني تعليم پر توجہ د ی بلکہ ديگر مفيد دنيوي علوم کے سيکھنے پر بھي خاص توجہ دي۔ حضرت زيد بن ثابت ؓ نے آپﷺ کے حکم سے عبراني زبان سيکھي۔ جبکہ حضرت عروہ بن مسعود ؓ اور حضرت غيلان بن مسلم ؓ منجنيق کي صنعت سيکھنے کے لیے جرش نامي علاقے کو گئے۔ آپﷺ نے نظام تعليم کي بنياد قرآن کريم کي تعليمات پر رکھي۔ بعد ميں قرآن کريم کي قرأت و کتابت کے ساتھ ساتھ ديگر علوم صرف و نحو، تفسير و حديث، فقہ و اصول فقہ، تاريخ و جغرافيہ، کيميا، حياتيات، فلسفہ و منطق، طب و نجوم اور رياضي و اقليدس بھي نصاب کا حصہ بنتے رہے۔ ايک مغربي محقق ڈاکٹر انڈريو ويل کے مطابق دين اسلام ہي (Holistic Lifestyle) کي تعليم ديتا ہے۔ جس کے مطابق انساني شخصيت کي مکمل تربيت ايک ہي صورت ميں ممکن ہےکہ دل، دماغ اور جسم کا باہمي ربط قائم ہو۔

پس تعلیم کے اولين مقاصد حاصل کرنے کے لیےطلبہ ميں تصور آخرت اور نظر يہ حيات کي آگاہي پيدا کی جائے۔ اس کا مطلب يہ ہے کہ افراد کو زندگي کا مفہوم اور مقصد، دنيا ميں انسان کي حيثيت، توحيد ورسالت اور آخرت کے زندگي پر اثرات اور اخلاقيات کے اسلامي اصولوں سے آگاہي ہو۔ نصاب ميں يہ قوت موجود ہو کہ وہ ايسے افراد پيدا کرے جو انفرادي اور اجتماعي زندگي کے بارے ميں اسلامي نظريات پر بھر پور يقين رکھتے ہوں اور اسي يقين کي روشني ميں زندگي کے ہر ميدان ميں اپنا رستہ خود بنا سکيں۔

ہمارے موجودہ نظام تعليم ميں دينيات کو ايک الگ مضمون کي حيثيت دي گئي ہے۔ اور باقي مضامين کو اسلامي تصور سے دور رکھا گيا ہے۔ ہونا تو يہ چاہيے تھا کہ ايک ایسا مکمل نصاب ہوتا جس ميں عصري علوم کے ساتھ ساتھ ديني علوم بھی شامل ہوتے تاکہ افراد کي تعليم و تربيت اسلامي عقائد و نظريات کے زير سايہ ہوتي اور اُن ميں خدا کی معرفت پيدا ہوتی اوروہ معاشرے کے بہترين اور مفيد شہري ثابت ہوتے۔ لہٰذا موجودہ نصاب کو صحيح خطوط پر استوار کر نے کي اشد ضرورت ہے۔

عبیرہ فاطمہ
عبیرہ فاطمہ
تیزی سے بدلتی دنیا میں اپنے اصولوں پر قائم روح