Education a wealthy business
سوچ بچار

ذھانت و فطانت بمقابلہ تعلیمی کاروباری مافیہ و والدین

Education a wealthy business cover

یہ سچ ھے کہ موجودہ دور میں ذھین و فطین Gifted بچہ یا Talented بچی والدین کے لیے بہتر تربیت، معاشرے کا مفید فرد، اچھے مستقبل کی آس کے لیےمسلسل ذھنی عذاب سے کم نہیں۔

آزاد جمہوری مملکت آزاد شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت، فرد کی ترقی کی ضامن ھوتی ھے۔ ہمارا المیہ کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اپنی جنگ ومعاشی ترقی international situation کے رولے میں پھنس گئیں۔ مجال ہے کہ عام شہری کے حقوق کی بات کریں۔ غریب معزز والدین کے حقیقی دکھ کی بھی کوئی بروقت سن لے۔

مافیا نے والدین کے خوابوں کو سرعام لوٹنا شروع کر دیا

آج کل نرسری، پریپ سے لے کر نویں تک کے داخلوں کا موسم ہے، گورنمنٹ کے ادارے ھمیشہ دسویں ترجیح رھے ہیں، والدین کی کوشش ھوتی ہے کہ قیمتی متاع ذھین و فطین بچہ اچھے سے پرائیویٹ یا بورڈر سرکاری معیاری ادارے میں داخل ھو اور اس کا مستقبل بن جائے۔ سرکاری ملازمین کی لگی بندھی تنخواہ ہوتی ہے بڑی مشکل سے روٹین سے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے ساتھ ساتھ گھر کا سرکل چلا رہے ہوتے ھیں، لیکن چھٹی اور نویں کلاسز میں داخلے کے لیے حقیقتاً والدین کو مخمصے میں مبتلاء کر کے پریشان کر دیا ہے۔

اچھے خاصے درمیانہ آمدن والے سفید پوش گھرانے اس عذاب سے گزر رہے ہیں کہ اپنے پیارے کا داخلہ کہاں ہو اور مستقبل کہاں محفوظ ہے۔ طرہ یہ کہ پرائیویٹ اداروں کا ہاتھ والدین کی جیب میں اور سر کڑاہی میں۔ ظالم موقع پرست مافیا نے والدین کے خوابوں کو سرعام لوٹنا شروع کر دیا ہے۔

علم دوستی کا دعویٰ مگر انسانیت نام کو نہیں۔ اب سنہری موقع ہے۔ کاروبار خوب چمک اٹھا ہے۔ ایک نامی گرامی اشتہاری فوقیت والے پرائیویٹ سکول کی پراسپیکٹس تین سو اور دوسرے کی تین ھزار تک بک رہی ھے اور ظلم یہ کہ پرائیویٹ اداروں یا سسٹمز میں رجسٹریشن، ڈویلپمنٹ چارجز، فرنیچر مرمت، سائینس فنڈز، سپورٹس و ثقافت فنڈز کےنام پر ایک طالب علم سے لئے جاتے ہیں۔

والدین کی 20000 سے لیکر ڈیڑھ لاکھ تک کی جیب کُتری جا رہی ہے۔ جب مجبور درمیانی طبقہ کے مقروض والدین کا بچہ ٹیسٹ پاس کرے تو سونا بیچ کر بچے کی تعلیم اچھے ادارے میں ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ارمان پورے کیے جائیں گے۔

او ان کی سننے والا بھی کوئی نہیں۔ پرنسپل تو راجہ اِندر بنا بیٹھا ہوتا ہے بات سننے کو وقت نہیں۔ نچلہ ایڈمن والا عملہ فیس کم کرنے یا ایک دھیلے کی رعایت دینے کو تیارنہیں۔ مستزاد یہ کہ مختلف بکس، یونیفارم، کاپیوں کے نام پر ایک طالب علم سے پچیس ھزار سے لے کر اسی اسی ھزار تک اینٹھے جا رہے ہیں۔

اس مافیاء کوکوئی پوچھنے والا نہیں۔ ارباب اختیار مجال ہے کہ درمیانے طبقے کا دکھ محسوس کریں۔ تعلیم کے آفیسران ذمہ داری سے پہلو تہی کیے شتر مرغ کی طرح سر نہوڑآء کیے دفاتر میں مصروف، اور پریس خاموش۔

کل ایک والدہ رونے لگی کہ میرا بچہ انتہائی ذہین ہےمگر مالی وسائل آڑے آ رہے ہیں۔ میں نے اس شہر کے بہترین دو APS دو FG اور چار ایجوکیٹرز اور دو بیکن ھاؤس اور تین AQ Khan سکول کی پراسپیکٹس خریدے ہیں۔ پانچ سو سے لے کر ہزارمیں بیچے جا رہے ہیں اوران کے ساتھ چار چار فوٹوز، پلندہ ۔فوٹو کاپیاں دیگر دستاویزات لگانا ہیں۔ اب گھر میں جمع پونجی نہ ہے۔ بچے کا ٹیسٹ دلوانا والدین کو نیم پاگل کرنے، ہوش اڑانے کے لیے کافی ہے۔

اس طرح یہ مہینہ درمیانے طبقے اور ایسے سرکاری ملازمین جس کے دو یا تین یا چار بچے داخل کروانا ہوں تعلیمی کاروباری مافیہ کے ہاتھوں مالیخولیا کے شکار ہو رہے ہیں۔ سارا سال قرض کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں۔ بیوہ عورت بتا رہی تھی کہ اب گھر میں ترکاری نہ بن رہی ہے اس طرح پس انداز کرکے اللہ کرے بچے کو داخلہ مل جائے اس کے لیے سر بسجود ہوں۔

وزیراعظم پاکستان عزت مآب سے دست بستہ التماس ہے کہ ایک داخلہ کمیٹی بنائی جائے جو ان معاملات کو ہینڈل کرے اور ذمہ دار پریس سے ظلم و زیادتی کی رپورٹ لے۔ سپریم کورٹ کے معزز چیف جسٹس صاحب فوراً نوٹس لیں کہ پچاس پچاس ہزار سے دو دو لاکھ رجسٹریشن کیا چیز ہے اور طالب علم کیوں دے؟ ۔ڈونیشن صرف امراء یا اہل فرد سے لی جائے۔ ٹیسٹ پاس کرنے کے باوجود محض فیس اور فنڈز کی بنیاد پر داخلہ سے انکاری ذہانت اور فطانت سے کھلواڑ ملک و قوم کے مفاد میں نہ ہے۔ نئی نسلوں کے ساتھ مذآق بند کیا جائے۔

حکومت ذمہ داری پوری کرے۔ اینڈرائیڈ دور میں مسئلہ ہینڈل کرنا کوئی مشکل نہیں۔ آن لائن داخلہ کی پالیسی بنائے۔ سادہ لوح قیمتی متاع کےبہتر مستقبل کے سہانے خواب میں مخمور والدین کو لٹنے سے بچائے۔ پچاس سے زیادہ پراسپیکٹس کی قیمت نہ ہو۔ بہن اور بھائیوں کی ایک سکول میں داخلہ پر فیس میں رعایت ہو۔ یہ ظلم ہے کہ داخلہ ایک کلاس میں تیس سے پنتیس کرنا ہے اور دو سو سے آٹھ سو پراسپیکٹس بیچ لیں یاکل سکول کا پچاس ساٹھ داخلہ کرنا ھے اور تشہیر کر کے پانچ ہزار پراسپیکٹس فروخت کر لیں۔

معاشی ناہمواری کا ناسور کینسر بن سکتا ھے

یہ کتابچہ والدین کی جیب پر صرف بوجھ ہے طالب علم کے نزدیک ردی ہو جاتا ہے۔ یہ کتابچہ صرف ان بچوں کو دیا جائے جن کا داخلہ کنفرم ہو جاتا ہے اور فری دیا جئے۔ اسی طرح رجسٹریشن دیگر فضول فنڈز کی کروڑوں میں collection بند کروائی جائے۔

صوبائی حکومتیںFTB کتابوں کی طرح PEF کے اداروں، گورنمنٹ کے طلباء کی طرح حکومت ادھر بھی طلباء کو کاپیاں و یونیفارم دینے کی پابند ہو۔ داخلہ کے لیے شفاف نظام بنایا جائے جس سے غریب اور درمیانہ طبقہ کے ذہین و فطین بچے بھی مستفید ہوں۔ نیزاچھے صوبائی گورنمنٹ کے اداروں، اچھے بورڈز کے رزلٹ والے سکولز کی باقاعدہ تشہیر ہو تا کہ والدین کی توجہ ادھر بھی ہو کہ مین سٹریم ادارے بھی طالب علم کی علمی پیاس بجھا سکتے ہیں اور کوالٹی ایجوکیشن کی راہ پر گامزن ہیں۔ حکومت فوراً قانون سازی کرے اور سپریم کورٹ ایکشن لے اور عملدرآمد کروائے۔ ورنہ تعلیم سب کے لیے۔ برابر مواقع کا خاتمہ ہو گا اورمعاشرے میں ذہنی نا آسودگی، معاشی ناہمواری کا ناسور کینسر بن سکتا ھے۔

عبیرہ فاطمہ
عبیرہ فاطمہ
تیزی سے بدلتی دنیا میں اپنے اصولوں پر قائم روح