responsibilities of Head of the institution
سیڈانفونیٹ اردو

سربراہِ ادارہ کی ذمہ داریاں اور اختیارات

سربراہِ ادارہ کی ذمہ داریاں

ہیڈ ٹیچر ادارے کے داخلہ /خارجہ (QUANTITY)، معیار تعلیم (QUALITY) اور کارکردگی (EFFICIENCY) کے تمام اہداف کا ذمہ دار ہے۔ جن کا حصول یقینی بنانے کے لئے اُسے تمام تر ضروری اختیارات بھی حاصل ہیں۔

پنجاب ایجوکیشن کوڈ کے آرٹیکل نمبر 10 کے مطابق سربراہِ ادارہ کو خود بھی پڑھانا ہے اور سکول کے درست انتظام و انصرام، سٹاف اور طلبہ کے ڈسپلن، تدریس کی تنظیم اور نگرانی، کھیلوں اور دوسری لازمی ہم نصابی سرگرمیوں کے انعقاد، تمام رجسٹرز، ریکارڈز کی بروقت اور درست تکمیل، رولز کے مطابق فنڈز کےاستعمال کی ذمہ داری بھی اُسی پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ ضابطہ کے مطابق طلبہ کی جسمانی، ذہنی، مذہبی، سماجی واخلاقی نشوونما اور بہبود بھی اس کا فرض ہے۔ ضابطے کا متن حسبِ ذیل ہے۔

 The Head of an institution shall be responsible for its proper administration and management. He/she shall maintain discipline among staff and students, organize and supervise the instruction. Regularly participate in the teaching work arrange for the games and other co-curricular activities, ensure that all registers are regularly and accurately maintained, keep a proper account of all monies entrusted to him/her and see that the same are utilized in accordance with the prescribed rules, and generously promote the Physical, intellectual, religious, social and moral welfare of the students under his charge

سربراہِ ادارہ کے اختیارات

سربراہ ِ ادارہ خواہ وہ کسی بھی بھی گریڈ میں ہوں، اس بات کا مکمل اختیار رکھتے ہیں کہ اوقات ِ مدرسہ کے دوران یا اوقات ِ مدرسہ کے بعد ادارے کے اساتذہ یا دیگر سٹاف کو دستور العمل، چیکنگ پروفارمہ اور تعلیمی کیلنڈر میں دی گئی کوئی تدریسی یا انتظامی سرگرمی یا کوئی بھی ایسا کام جو سکول کی بہتری اور معیار ِ تعلیم کےلئے مناسب سمجھیں، تفویض کر دیں۔ اس کی عدم تعمیل (Serious Mis-Conduct) میں شمار کی جائے گی۔انچارج ہیڈ ٹیچرز کے بھی یہی اختیارات ہیں۔

سربراہ ِ ادارہ کسی بھی ٹیچر کو اضافی کلاس، پیریڈ، کسی بھی ہم نصابی سرگرمی، لائبریری، ٹیم انچارج، فنڈز کا انچارج، شجر کاری، امتحانی ذمہ داری، ریکارڈ کی تیاری، اپنی معاونت یا متفرق سرگرمیاں تفویض کرنے کے مکمل اختیارات رکھتے ہیں۔

سربراہ ِ ادارہ کسی بھی ٹیچر کو ٹرانسفر کرنے کی سفارش کرسکتے ہیں۔ سربراہ ِ ادارہ کی رائے کا احترام پوری طرح ملحوظ ِ خاطر رکھا جائے گا۔ اسی طرح رخصت ِ اتفاقیہ مکمل طور پر سربراہِ ادارہ کی صوابدید پر منحصر ہے۔

کوئی بھی سربراہ ِ ادارہ سائنس کے مضامین، ریاضی اور انگریزی کے اساتذہ کی پوسٹ خالی ہونے کی صورت میں ہر تعلیمی سال میں 6 ماہ کے لئے فروغ ِ تعلیم فنڈ سے سکول کونسل کی منظوری سے عارضی ٹیچر کا تقرر کر سکتا ہے۔ سویئپر نہ ہونے کی صورت میں سینٹری ورکر کو حسب ِ ضرورت مذکورہ فنڈ سے ادائیگی کی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ جُز وقتی سٹاف کو گرمی کی تعطیلات کی تنخواہ نہیں ملے گی۔

PERFORMANCE EVALUATION REPORT-PER

سربراہِ ادارہ کی ایک بنیادی ذمہ داری اور اہم ترین اختیار تمام اسٹاف کی P.E.R لکھنا ہے۔ اب A.C.R کا نام بدل کر P.E.R کر دیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سربراہِ ادارہ تمام معلمین بشمول کنٹریکٹ اساتذہ و ملازمین کی سال بھر کی کارکرگی، اُن کو دئیے گئے اہداف کی روشنی میں پوری معروضیت کے ساتھ لکھیں گے۔

نوٹ: ہیڈ ٹیچر کی P.E.R لکھتے وقت داخلہ / خارجہ (QUANTITY)، معیار ِتعلیم (QUALITY) اور کارکردگی (EFFICIENCY) کے تمام اہداف، دستور العمل، چیکنگ پروفارمہ اور تعلیمی کیلنڈر سامنے رکھے جائیں گے۔ اس لئےسربراہِ ادارہ بھی اساتذہ کی P.E.R لکھتے وقت ان تمام دستاویزات، اہداف اور اساتذہ کی کارکردگی کےنتائج کو پوری طرح مدنظر رکھیں۔ حکومتی ہدایات کے مطابق تمام اسٹاف بشمول کنٹریکٹ اساتذہ کی P.E.Rs ہر صورت 15جنوری سےپہلے مکمل کرنا لازمی ہیں۔ انہیں ہر صورت خفیہ (CONFIDENTIAL) رکھا جائے۔

گورنمنٹ پرائمری، ایلیمنٹری، سکینڈری، ہائیرسیکنڈری سکول کے اہداف

تمام سکولز کے اہداف کو درج ذیل کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

داخلہ/ خارجہ Quantity Targets: Admission, Drop-Out, Retention Rate

1: پرائمری سطح پر 100 فیصد داخلہ یقینی بنانا۔ جماعتِ پنجم اور جماعت ہشتم پاس کرنے والے تمام طلبہ کا اگلی جماعت میں داخلہ یقینی بنانا۔
2: سکول کی آخری جماعت پاس کرنے سے پہلے خارجہ (Dropout) مکمل طور پر ختم کرنا۔
3: پنجم، ہشتم اور میٹرک کا رزلٹ مصنوعی طور پر بہتر بنانے کے لئے نہ تو کسی بچے کو خارج کیا جائے گا اور نہ ہی اس کا داخلہ بھیجنے سے انکار کیا جائے گا۔
4: تیس (30) ستمر سے پہلے داخل شدہ نرسری (کچی) کے طلبہ کو لازمی طور پر اگلی کلاس میں ترقی دی جائے۔
5: قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق پرائمری سطح پر داخلہ100 فیصد ہونا چاہیے۔ جس میں سے کم از کم 90 فیصد طلبا و طالبات پرائمری تعلیم مکمل کریں۔ اور اول ادنی ٰ کے داخلے کا 85 فیصد طلبا و طالبات جماعت ہشتم تک برقرار رہیں اور 80فیصد میٹرک تک پہنچیں۔

معیار ِ تعلیم QAALITY TARGETS: RESULTS:
1: پرائمری سٹینڈرڈ، مڈل سٹینڈرڈ اور میٹرک کے امتحانات میں مجموعی اور مضمون وار نتائج ضلع اور بورڈ کی اوسط سے کم نہ ہوں۔
2: رٹہ سسٹم، امدادی کتب اور پرائیویٹ ٹیوشن کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
3: سکول میں تمام سرگرمیاں دستور العمل، تعلیمی کیلنڈر اور چیکنگ پروفارمہ کے عین مطابق ہوں۔

انتظامی اُمور:ADMINISTRATIVE EFFICIENCY
1: Absenteeism کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
2: سکول کا انتظام و انصرام، ڈسپلن، طلبہ و اساتذہ کی حاضری، یونیفارم، سکول کی عمارت و احاطہ کی حالت و صفائی، سائنس لیب، لائبریری، پی۔ٹی، سپورٹس ، والدین سے موثر اور مسلسل رابطہ اور ایک معیاری درس گاہ کا عملی نمونہ ہوں۔

RATIONALIZATION/PER STUDENT COST/RE-ALLOCATION
اکثر ریشنالئزیشن پالیسی اساتذہ کے لئے سر درد بنی ہوتی ہے۔ جہاں اس پالیسی سے اساتذہ کی اکثریت پریشان ہے، وہاں تعلیمی حکام بھی اس سے پریشان نظر آتے ہیں۔ ہیڈ ٹیچر کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کی مدد سے اپنے سکول کی تعداد میں اضافہ کرے۔ تاکہ اُس کے سکول کے اساتذہ اس پالیسی کی رُو سے کسی اور سکول شفٹ نہ ہوں۔

حکومتی پالیسی کے مطابق فی طالب علم تعلیمی اخراجات کی ایک مناسب حد ہے۔ لہٰذا ایلیمنٹری اور سیکنڈری سطح پر فی طالب علم ماہانہ اخراجات 200 سے 300 اور سالانہ اخراجات 2400 اور 3600 سے زیادہ نہ ہوں۔ سالانہ سکول بجٹ کا جواز سکول کی کارکردگی (تعداد اور نتائج) سے ثابت ہونا چاہیے۔

اہم اقتباسات از پنجاب ایجو کیشن کوڈ

1: سٹا ک رجسٹر سے اشیاء کا اخراج ( آرٹیکل نمبر8)
2: ثانوی اداروں کے سر براہوں کو مروجہ مالی اختیارات کے قواعد کے مطابق اشیاء کو ” ناقابل استعمال ” اور “ناکارہ” کرنے کا اختیار ہے۔ ان اشیاء کو نیلام عام کے ذریعہ فروخت کیا جائے گا اور حاصل ہونے والی رقم صورت خرید از گورنمنٹ فنڈز 1250-1251 ایجوکیشن فنڈ میں جمع کرنا ہو تی ہے۔ بصورت خریداز سکول فنڈز، متعلقہ فنڈز میں رقوم جمع کرانا ہو تی ہیں۔

سربراہ ادارہ کے اختیارات ( آرٹیکل نمبر10)
1: سربراہ ادارہ اپنے ادارہ اور منسلکہ بورڈنگ ہاؤس کے مناسب انتظامات کا ذمہ دار ہے۔
2: اسا تذہ و طلباء کے مابین نظم و ضبط بر قرار رکھنا۔
3: تدریسی امور کی تنظیم و نگرانی کرنا
4: تمام رجسٹرز کی تکمیل اور باقاعدہ پڑتال کرنا۔
5: کھیلوں و ہم نصابی سرگرمیوں کا انتظام کرنا۔
6: زیر تصرف تمام رقومات کو قواعد و ضوبط کے مطابق خرچ کرنا، ریکارڈ تیار کرنا اور جوابد ہی کیلئے تیار رہنا۔
7: ادارہ کے طلباء کی جسمانی ، ذہنی ، مذہبی اور معاشرتی و اخلاقی بہبود کو ترقی دینا۔
8: ہفتہ میں کم از کم 18 پیریڈ پڑھانا۔

اگلی جماعت میں ترقی دینا ( آرٹیکل نمبر11)
1: تعلمی سال کے اختتام پر سالا نہ امتحان کے ذریعہ طلباء کو اگلی جماعت میں ترقی دینے کا اختیار حاصل ہے۔
2: دوران تعلیمی سال پہلی جماعت سے دوسری جماعت میں ترقی دی جاسکتی ہے۔ جس پر افسر معائنہ نظر ثانی کر سکتا ہے۔
3: جماعت دوم سے جماعت ہشتم تک دوران سال ترقی کا اختیار صرف ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفسیر کو ہے۔

اساتذہ کی حاضری ( آرٹیکل نمبر15)
اساتذہ کی حاضری باقاعدہ اوقات کے اندراج کے ساتھ مقررہ رجسٹر پر لگائی جائے گی اور کئی استاد اوقات کار کے دوران سر براہ کی اجازت اور “موومنٹ رجسٹر” میں اندراج کے بغیر ادارہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔

پرائیویٹ ٹیوشن وغیرہ (آ رٹیکل نمبر 17)
سکول کے اوقات اور احاطے میں کسی قسم کی پرائیویٹ ٹیوشن کی قطعی ممانعت ہے۔ کسی بھی ٹیچر کو اپنی کلاس یا اپنے سکول کے کسع بھی طالب علم کو پرائیویٹ ٹیوشن پڑھانے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کوئی ٹیچر اپنے سکول کے طلبہ کو ٹیوشن پڑھاتے پایا گیا تو اُسے “Professional Dishonesty” شمار کر کے اُس کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے گی

سکول کے اوقات کار (آرٹیکل نمبر 19)
سکول کھلنے اور بند ہونے کے اوقات کار متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اپنے موسمی حالات اور محل و قوع کے مطابق کرے گا لیکن محکمہ کی طرف سے مقرر کردہ اوقات کار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔ لیکن موسم گرما میں اسمبلی اور تفریح کا وقت نکال کر پانچ (5) گھنٹے اور موسمِ سرما میں ساڑھے پانچ گھنٹے سے کم نہ ہو۔ پرائمری سیکشن والے ہیڈ ٹیچر اگر ضروری سمجھیں تو جماعت نرسری، اول کو ایک گھنٹہ قبل چھٹی دے سکتے ہیں مگر ٹیچر سکول میں موجود رہے گا۔ ہیڈ ٹیچر ٹریفک، بوائز اور گرلز سکولز کی مقامی صورت حال کہ سامنے رکھ کر اوقات مدرسہ میں 15 منٹ کی تبدیلی کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ تمام اوقات کارکہ سکول کے باہر نمایاں جگہ لکھنا ضروری ہے۔

نظام الاوقات (آرٹیکل نمبر 20)
ہر کمرہ ہائے جماعت میں اس جماعت کا ٹائم ٹیبل اور سلیبس آویزاں ہو گا۔ جس میں تمام مضامین کی تفصیل درج ہو گی۔ نیز دفتر سربراہ ادارہ و سٹاف روم میں تمام اساتذہ و کلاسوں کا جنرل ٹائم ٹیبل آویزاں کرنا ہو گا۔

حاضری طلبا ( آرٹیکل نمبر 21)
طلباء کے پہلے وقت کی حاضری سکول لگنے کے پندرہ منٹ کے اندر اور دوسرے وقت کی حاضری سکول بند ہونے کے وقت لگائی جائے گی۔ کوئی خانہ خالی نہ چھوڑا جائے گا اور دوران سکول طالب علم کے چلے جانے کی صورت میں رجسٹر حاضری میں اندراج کیا جائے گا۔

منظوری رخصت ( آرٹیکل نمبر23)
طالب علم کی تحریری درخواست برائے رخصت جس پر والد/سرپرست کے تصدیقی دستخط موجود ہونے کی بنیاد پر سربراہ ادارہ رخصت منظور کرنے کا مجاز ہے۔

مانیٹر کا تقرر ( آرٹیکل نمبر 24)
ہیڈ ماسٹر ہر جماعت کے ایک طالب علم کو بطور مانیٹر مقرر کرنے اور اسے فرائض تضویض کرنے کا مجاز ہے۔

عمر کی حد ( آرٹیکل نمبر 29)
پہلی جماعت میں داخلہ کیلے عمر کم از کم پانچ سال ہونی چاہیے۔ لیکن UPE مہم میں نئے داخلہ کیلے 4 سال حد مقرر کی گئی ہے واضح رہے کہ 4 سال کا بچہ Nursery یعنی کچی کلاس میں داخلہ لے گا۔

نیا داخلہ ( آرٹیکل نمبر31)
نیا داخلہ مجوزہ فارم پر بچے کے والد سرپرست کے دستخط پر جماعت نرسری میں داخلہ اپریل تا نومبر کے دوران حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم حکومتی مہم کے نتیجے میں کسی بھی وقت نیا داخلہ کیا جا سکتا ہے۔

عمر کا اندراج (آرٹیکل نمبر 34)
سرربراہ ادارہ بوقت داخلہ طالب علم کی تاریخ پیدائش نہایت احتیاط اور صحت کے ساتھ درج کرے اور والد/سر پرست پر واضح کرے کہ ایک دفعہ ریکارڈ کی گئی تاریخ پیدائش میں ہر گز تبدیلی نہیں ہوگی۔ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کی صورت میں مجوزہ فیس ادا کر کے بورڈ تبدیلی کا اختیار رکھتا ہے۔ جس کیلئے پرائمری سر ٹیفکیٹ/ب فارم/میو نسپل کمیٹی کا تاریخ پیدائش کا سر ٹیفکیٹ دینا پڑے گا۔

نوٹ:۔ بہتر ہے کہ سربراہ ادارہ داخلہ کے وقت والدین کو برتھ سرٹیفیکٹ یا فارم ب بنوانے کا پابند کرے تا کہ بعد میں عذر نہ رہے اور تمام بچوں کا تمام محکمانہ امتحانات میں داخلہ کے وقت بھی آسانی ہو۔

عمر کا غلط اندراج ( آرٹیکل نمبر35)
اگر کئی امیدوار کسی پبلک امتحان میں اپنی عمر کا غلط اندراج کرتا ہے تو اسے سکول سے نکالا جا سکتا ہے اور آئندہ امتحان کیلئے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

داخلہ ( آرٹیکل نمبر 38)
سکول اور کالج میں داخلہ بلا امتیاز مذہت، ذات اور نسل، قواعد و ضوابت کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر ہو گا۔

تدریسی پریڈ کا دورانیہ ( آرٹیکل نمبر 40)
ایک تعلیمی ادارے میں تدریسی پریڈ کا دورانیہ 45 منٹ ہو گا۔

ضروری رجسٹرات ( آرٹیکل نمبر 42)
ہر تعلیمی ادارے میں مندرجہ ذیل رجسٹرز ضرور ہونے چاہیں۔
1۔ کیش بک 2۔ قبض الوصول 3۔ کنٹجنٹی 4۔ سٹاک رجسٹر 5۔ جی پی فنڈرجسٹر 6۔ رجسٹر آمدو خرچ (گورنمنٹ و فنڈز) 7۔ رجسٹر اشیاء مال سر کار 8۔ رجسٹر داخل خارج 9۔ رجسٹر وزیٹرز 10۔ وصولی ڈاک رجسٹر 11۔ چلت ڈاک ( روانگی ڈاک) رجسٹر 12 رجسٹر امتحانات 13۔ رجسٹر حاضری مدرسین
14۔ چلت لائبریری کتب رجسٹر 15۔ سزا و جزا رجسٹر 16۔ رخصت ہائے اتفاقیہ رجسٹر 17۔ لاگ بک 18۔ پنجاب ایجو کیشن کوڈ 19۔ انڈکس رجسٹر 20۔ موؤمنٹ رجسٹر 21۔ چلت اشیا ء درج 22۔ رجسٹر ٹیوشن فیس 23۔ رجسٹر سامان سپورٹس 24۔ لائبریری کتب رجسٹر 25۔ ٹیلیفون رجسٹر 26۔ آمد اخبار رجسٹر 27۔ جنرل روز نامچہ حاضری رجسٹر 28۔ ہسٹری مشین رجسٹر 29۔ بجٹ کنٹرول رجسٹر 30۔ گرم سرد رجسٹر 31۔ ٹکٹ رجسٹر 32۔ ٹیویشن فیس رجسٹر 33۔ کنڈکٹ رجسٹر 34۔ رجسٹر چلت وضیفہ 35۔ خالی پوسٹوں کا رجسٹر 36۔ بجٹ کنٹرول رجسٹر 37۔ میٹر ریڈر رجسٹر ( بجلی ، گیس ، پانی ) 38۔ ٹی اے رجسٹر 39۔ مرمت رجسٹر 40۔ ٹوکن رجسٹر 41۔ منظور شدہ پوسٹوں کا رجسٹر

کنڈکٹ رجسٹر (آرٹیکل نمبر 43)
سبراہ ادارہ اپنے پاس یہ رجسٹر رکھے گا جس میں کسی طالب علم کی خصوصی کار کردگی یا ناپسندیدگی/رویہ سے متعلق اندر اجات کئے جائیں گے۔ جو طالبعلم کی پر اگرس رپورٹ میں بھی درج کئے جائیں گے۔

یونیفارم (آرٹیکل نمبر44)
تمام طلباء مقرر کر دہ یونیفارم میں سکول میں آئیں گے اور یہ صاف ستھری ہوگی۔ بصورت دیگر انچارج کلاس اس دن کیلئے اسے کلاس سے باہر نکال سکتا ہے۔ یونیفارم یہ ہے:۔
موسم گرما برائے طلباء :۔ خاکی قمیض یا گرے پتلون سفید قمیض
موسم سرمابرائے طلباء :۔ خاکی شلوار و خاکی شرٹ / قمیض
سوئیٹر/ جرسی میرون/ نیوی بلیو/ گرے = بمطابق انتخاب

امتناع تمباکو نوشی ( آرٹیکل نمبر 45)
تعلیمی اداروں میں طلباء اساتذہ اور ملاقاتیوں کیلے تمباکو نوشی سخت منع ہے۔

جسمانی تعلیم اور کھیل ( آرٹیکل نمبر 46)
تعلیمی اداروں میں سربراہِ ادارہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سکول میں طلبا کی ہمہ گیر جسمانی نشوونما کے لیےجسمانی تربیت اور سپورٹس کا ایک قابل عمل نظام ترتیب دیں۔ 20 اکتوبر سے 20 نومبر تک ہم ان تمام پروگرامز پر خصوصی توجہ دی جائے اور صوبہ بھر میں 20 نومبر سپورٹس ڈے کے طور پر منایا جائے۔

سکولوں میں ماہانہ فیس:
حسب ذیل شرح سےسکولوں میں ماہا نہ فروغ تعلیم فنڈ وصول کی جائے گی۔ پرائمری تا مڈل 20 روپے ماہانہ۔

ہدایات برائے سکول لیونگ سر ٹیفکیٹ ( باب نمبر II آرٹیکل نمبر 32)
1۔ کوئی بھی طالب علم ایک ادارہ سے دوسرے ادارہ میں سکول لیونگ سر ٹیفکیٹ پیش کئے بغیر داخلہ نہیں لے سکتا۔
ب) ایک ادارہ سے دوسرے ادارہ میں داخل ہوتے وقت طالب علم جس کلاس میں زیر تعلیم تھا۔ اس سے اگلی جماعت میں داخل نہ کیا جائیگا۔ تاوقتیکہ ڈسٹرکٹ ایجو کیشن اسکی خصوصی اجازت دے۔
نوٹ:۔ ہر سکول میں ایک سکول سے دوسرے سکول میں داخلہ کے وقت ایک فائل بنانا ہو گی۔ جس میں نمبر شمار اور طالب علم کا داخلہ نمبر لکھنا ہو گا۔
2۔ جو طلباء سکول تبدیل کرنا چاہتے ہوں سال/کور س کے خاتمہ پر انہیں اچھے چال چلن کا سرٹیفکیٹ دیا جائیگا۔ اس کیلئے والدین تحریری درخواست دیں گے۔
3۔ طلباء کے والدین کی تحریری درخواست پر سکول لیونگ سر ٹیفکیٹ دیا جائیگا۔ انکارکی صورت میں سربراہ ادارہ اس کی تحریری وجہ دے گا۔ اچھا چال چلن نہ ہونے کی صورت میں اور فیس/ فنڈ کی عدم ادائیگی پر سرٹیفکیٹ نہ دیا جائیگا۔
نہایت اہم :۔ “اپریل کے مہنے کے علاوہ ایک سکول سے دوسرے سکول میں داخلہ ایک ہی شہر کی صورت میں ممنوع ہے” سرراہ ادارہ واضح نوٹ دے گا۔ کہ ( ا) اسے مقامی سکول میں داخلہ کی اجازت ہے۔ (ب) فلاں وجہ سے مقامی داخلہ کی اجازت نہ ہے ( وجہ بیان کی جائے)
مقصد دوران تعلیمی سال ایک سکول سے دوسرے سکول میں داخلہ میں رکاوٹ ہے۔
4۔ داخلہ نہ دینے کی غیر تسلی بخش وجوہ کی بنیاد پر ڈسٹر کٹ ایجوکیشن آفیسر کی حاصل شدہ اجازت کی صورت میں دوسرے سکول میں داخلہ لیا جاسکے گا۔ ایسی صورت میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کے آفیسر سابقہ سکول کے سربراہ کو بلا کر سر ٹیفکیٹ جاری کرنے کی وجہ پوچھے گا۔
5۔ سربراہ ادارہ:۔ (الف) اچھے چال چلن اور (ب) 75 فیصد حاضری حاصل کرنے کی صورت میں طالب علم کو مڈل اسٹینڈرڈ کے محکمانہ امتحانات اور میٹر ک کے امتحان میں داخلہ بھیجے گا۔

ہدایات برائے نماز (آرٹیکل نمبر 56)
ایجوکیشن کوڈ ضابطہ نمبر56 میں یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں نماز کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے۔ لہذا لازمی ہے کہ موسم سرما میں نماز اور تفریح کا وقفہ اکٹھا کرکے طلبا و اساتذہ کے لیے باجماعت نماز ظہر کا اہتمام کیا جائے۔

ہدایات برائے قرآن مجید (آرٹیکل نمبر 57)
ایجوکیشن کوڈ آرٹیکل نمبر 57 میں تمام سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں سکول کا آغاز قرآن حکیم (ناظرہ) کی تدریس سے کیا جائے۔
نوٹ: حکومتی ہدایات کے مطابق تدریس قرآن مجید اسلامیات کے اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ قاری کی خصوصی آسامی مہیا کی جائے یا سکول کونسل یا فروغ تعلیم سے قاری صاحب کا بندوبست کیا جائے۔

بچوں کےعالمی حقوق کا عالمی کنونشن (آرٹیکل نمبر37)
حکومت پاکستان بچوں کے حقوق کےعالمی کنونشن پر دستخط کر چکی ہے۔ جس کے آرٹیکل نمبر37 کی رُو سے ہم تمام پابند ہیں کہ بچوں کو شفقت اور محبت کی فضا فراہم کریں گے۔ کسی قسم کی ذہنی اذیت، نفسیاتی دباؤ یا جسمانی سزا سے اجتناب کریں گے۔ اسی بنا پر حکومت پنجاب نے سکولز میں ہر قسم کی ذہنی اور جسمانی سزا پر مکمل پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ اس لئے جسمانی سزا سے مکمل اجتناب کرایا جائے۔

اسمبلی:
قومی تعلیمی پالیسی کے باب نمبر 3 میں وضاحت کی گئی ہے کہ
سکولوں اور کالجوں میں صبح کے اجتماعات اور دینی و اخلاقی تعلیم کے مخصوص اوقات میں کردار سازی، اعلیٰ اخلاقی کردارپر زور دیں گے اور قرآن و سنتﷺ پر مبنی معاشی ترقی، حب الوطنی اور تنظیم کا ماحول پیدا کریں گے۔
1۔ اسمبلی سکول کا آئینہ ہوتی ہے۔ اسمبلی میں سربراہِ ادارہ اور تمام اساتذہ بشمول سبجیکٹ اسپیشلیسٹس کا حاضر ہونا لازم ہے۔
2۔ اسمبلی کی ابتداء تلاوت کلام پاک سے ہو۔ بہتر ہے کہ تلاوت معہ ترجمہ و مفہوم کی جائے۔
3۔ تلاوت کے بعد نعت ِ رسول مقبول ﷺ پڑھی جائے۔
4۔ بعد از نعت علامہ اقبال کی دُعا “لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” کرائی جائے۔
5۔ بعد از دُعا قومی ترانہ سب کورس میں یا سنگل صورت میں ترنم کے ساتھ پڑھا جائے۔
6۔ قومی ترانے کے ساتھ روزانہ اسمبلی کے وقت سٹینڈرڈ سائز خوبصورت قومی پرچم (3×4) کا جس میں راڈ کے بغیر سفید رنگ ایک فٹ اور سبز رنگ تین فٹ ہو۔ سکول کی عمارت کے سب سے نمایاں حصے پر لہرایا جائے۔
7۔ بعد از قومی ترانہ ہیڈ ٹیچر، ٹیچرز یا کوئی طالب علم کسی ایک موضوع (جیسے امن وسلامتی،رواداری، اخوت، ڈینگی، صحت و صفائی وغیرہ) پر تقریر کی جائے۔
8۔ بعد از اسمبلی تمام طلبا مارچ پاسٹ کرتے ہوئے فلیگ ہولڈرز کی قیادت میں اپنی کلاس میں جائیں گے۔
9۔ ہفتہ وار تعطیل کے بعد عموماََ سٹوڈنٹس کی جسمانی صفائی، بالوں اور ناخن کی مناسب تراش بھی چیک کی جا سکتی ہے۔
10۔ ہر کلاس انچارج اسمبلی میں اپنی کلاس کے ڈسپلن کا ذمہ دار ہو گا۔

مزید آپ کے تبصرات سے واضح ہو جائے گا۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

سکول کونسل پالیسی کیا ہے؟ ممبران کے انتخاب کا درست طریقہ کار کیا ہے؟ اس میں سکول سربراہ اور ممبران کے اختیارات کیا ہیں؟

جوابات کے لئے یہاں کلک کریں!

عبیرہ فاطمہ
عبیرہ فاطمہ
تیزی سے بدلتی دنیا میں اپنے اصولوں پر قائم روح