no punishment result fi
سوچ بچار

مار نہیں پیار

no punishment result

تاریخ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ انسان نے جب بھی قانون فطرت سے بغاوت کی ہے اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑا ہے نظام کائنات جس ایک نظرے پہ چل رہا ہے وہ ہے “سزا اور جزا”

دنیا کا کوئی بھی مذہب دیکھ لیں اس میں واضح طور پر سزا اور جزا کا نظریہ موجود ہے یہ سزا اور جزا کا ہی نظریہ ہے جس کے تحت انسان مذہب کی طرف مائل ہوتا ہے اچھے کام اور دوسروں سے بھلائی کرنے کی کوشش کرتا ہے اور برے کام اور برائی سے اجتناب کی کوشش کرتا ہے۔

ایک لمحے کے لیے آپ سوچیں کہ اگر مذہب میں سزا اور جزا کا نظریہ نہ ہوتا تو اس دنیا کا منظر کیا ہوتا؟ حتیٰ کہ وہ لوگ جو کسی مذہب پہ یقین نہیں رکھتے سزا اور جزا کے نظریے پر وہ بھی یقین رکھتے ہیں۔ کیونکہ سزا اور جزا کا نظریہ حقیقت میں اصول کائنات ہے اسی نظریے پہ ہی معاشرے اور ریاستیں قائم ہیں۔

کسی بھی معاشرے اور ریاست کا نظام و انصرام چلانے کے لیے سزا اور جزا کا نظریہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور پھر اسی نظریے کو لاگو کرنے کے لیے مختلف ریاستی ادارے بنائے جاتے ہیں جن میں پولیس، عدلیہ اور پارلیمنٹ اہم ہیں قانون بنانے سے لے کر قانون نافذ کرنے تک ان اداروں کا بنیادی کردار ہے اور کسی بھی ریاست اور معاشرے کی کامیابی اسی میں ہے کہ قانون کی مکمل طور پر پاسداری ہو۔

اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف:

کسی بھی قوم کی تربیت اور ترقی کے لیے تعلیمی ادارے بنیادی کردار ادا کرتے ہیں تعلیمی اداروں کا مقصد ہی کردار اور رویے میں مثبت تبدیلی لا کر فرد کو ریاست کا مفید رکن بنانا ہے تعلیمی ادارے سے نکل کر افراد اسی صورت میں مفید معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں اگر ان کی تربیت صحیح اصولوں پہ کی گئی ہو انہیں سزا اور جزا کا نظریہ سمجھ آتا ہو قانون کا احترام اور قانون کی پاسداری کا انہیں احساس ہو۔

مگر بدقسمتی سے نہ ہمارا تعلیمی نظام اپنا ہے نہ سلیبس اپنا ہے اور نہ ہی تعلیمی اداروں کے لیے اصول اپنے ہیں جب سے “مار نہیں پیار” کا قانون تعلیمی اداروں میں نافذ کیا گیا ہے اس وقت سے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرتی اقدار بھی بگڑتی جا رہی ہیں کیونکہ سکول میں بچے کو جو ماحول دینا ہے اس میں بچہ اگر سکول نہ آئے استاد کچھ نہیں کہہ سکتا۔

بچہ لیٹ آئے استاد کچھ نہیں کہہ سکتا

بچہ ہوم ورک کرکے نہ آئے استاد کچھ نہیں کہہ سکتا

بچہ سبق یاد کرکے نہ آئے استاد کچھ نہیں کہہ سکتا

“مار نہیں پیار” کا نظریہ ہمیں بحثیت قوم بہت مہنگا پڑے گا

جب بچے کو سکول میں اس طرح کا جنگل کا قانون ملے گا جہاں سزا کا تصور تک نہ ہو وہاں تعلیم اور تعلم کا عمل کیا خاک چلے گا جب سزا اور جزا کے نظریے کے بغیر کوئی ملک اور معاشرہ نہیں چل سکتا تو وہ تعلیمی ادارے کیسے چل سکتے ہیں جہاں سے فارغ ہو کر ان بچوں نے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے۔

اگر تعلیمی اداروں سے سزا اور جزا کو بالکل ختم ہی کرنا ہے تو پھر اساتذہ کو سزائیں اور جرمانے کیوں؟ پھر سو فیصد حاضری، یونیفارم کلاس ورک ، ہوم ورک اور نظم و ضبط کے لیے استاد کے پاس کوئی جادو کی چھڑی ہے؟

پھر ہر ایک کو فری کر دیا جائے پورے ملک سے سزا کا نظریہ ختم کر دیا جائے پولیس سٹیشنز بند کر دینے چاہئیں مجرموں کو سزا اور پھانسی سنانے والی عدالتوں کو بھی ختم کر دیا جائے اور سب سے بڑھ کر مختلف جرائم کے خلاف سزا کی قانون سازی کرنے والی پارلیمنٹ کو بھی تالا لگا دیا جائے۔

بحثیت استاد میں ایک بات واضح کر دوں کہ “مار نہیں پیار” کا نظریہ ہمیں بحثیت قوم بہت مہنگا پڑے گا یہ ان لوگوں کا نظریہ ہے جو اپنے بوڑھے ماں باپ کو اولڈ ہومز میں چھوڑ آتے ہیں اور پھر ان کی خبر گیری مدر ڈے اور فادر ڈے پر ہی لیتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کا نظریہ ہے جہاں جانوروں کے حقوق تو ہیں مگر انسانوں کے نہیں اس نظریے کا واحد مقصد ہماری معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو کھوکھلا کرنا ہے استاد کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے ہیں۔

استاد تو جیسے تیسے اپنا وقت گزار لے گا مگر تعلیم اور تربیت کا جو خلا رہ جائے گا اسے کون پُر کرے گا کل کو یہی بچے جب والدین کے ساتھ طوفان بدتمیزی برپا کریں گے اس کا ذمے دار کون ہوگا؟

یہی طلباء اگر خدانخواستہ ریاستی قوانین سے رو گردانی کریں گے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟

خدارا اس معاملے کو صرف استاد اور شاگرد کے تناظر میں نہ دیکھیں بلکہ دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک اور قوم کی بھلائی کے لیے سوچیں.

عبیرہ فاطمہ
عبیرہ فاطمہ
تیزی سے بدلتی دنیا میں اپنے اصولوں پر قائم روح