qaed Punjab
سوچ بچار طنزومزاح

محکمہ تعلیم کا سُفید ہاتھی QAED

qaed punjab 3

یہ 30اگست 2017 کی بات ہے. قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ بہاولپُور میں این ٹی ایس کے تحت بھرتی کیے گئے اے ای اوز کو دو ماہ ٹریننگ کے بعد رُخصت کیا جا رہا تھا. پرنسپل اکیڈمی سٹیج پہ آئے کہنے لگے کہ کِسی کو ٹریننگ کے حوالے سے کوئی شِکائت ہو تو بتائے.میں اُٹھا اور اسٹیج پہ چلا گیا.

میں نے دو ماہ کا سارا کچا چٹھا کھولا کہ آپ کے ٹرینرز کلاس رُومز میں وقت گُزاری کے لیے آتے ہیں سوائے ایک شخص کے کسی نے کوئی موٹیویشن نہیں دی اور نہ کوئی جذبہ بیدار کیا.

بس حکُومتی پالیسیوں پہ تنقید اور سیاست کی لچھے دار گُفتگو

qaed punjab 2

اکثریت نے یونیورسٹی کے روائتی پروفیسرز کی طرح کہیں سے مستعار لی ہوئیں یا سرقہ شُدہ slides پڑھ کے سنا دیں. اور باقی وقت غیر ضرُوری گُفتگُو میں گُزار دِیا.
اُلٹآ جکُومتی پالیسیوں پہ تنقید اور سیاست کی لچھے دار گُفتگو !

سامنے بیٹھی ایک Tripple-S ٹرینر کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ یہ ہیں ہماری ٹرینر جو کلاس میں پانامہ فیصلہ celebrate کرواتی رہیں اور کلاس میں اچھا خاصا تناؤ کا ماحول بنتے بنتے رہ گیا…..!

میں نے مزید کہا کہ ضلع بھر کے ٹریننگ سنٹرز میں یہی کُچھ ہو رہا ہے
سوائے کُچھ لوگوں کے باقی سب ٹرینر…
سیاست کر رہے ہیں …
وقت گُزاری کر رہے ہیں ….
القصہ دیہاڑی لگانے آتے ہیں…

دعوت دینے والی صاحب کو اِس طرح کی گُفتگو کی توقع نہیں تھی وہ کُچھ سٹپٹا گئے!
اور کہنے لگے کہ میری مُراد یہ تھی کہ کھانے پینے کے حوالے سے یا اور امُور کے حوالے سے کوئی مسلئہ درپیش تو نہیں ہوا. آپ تو بات اور سِمت لے گئے.
مگر پھر بھی آپ نے نشاندہی کردی ہے
آئندہ میں اِن تمام کمی کوتاہیوں کو ضرُور دُور کروں گا!

محکمہ تعلیم کا سُفید ہاتھی QAED

پیلی ٹریننگ کا جادُو سر چڑھ کے بول رہا ہے

آج کل پیلی ٹریننگ کا جادُو سر چڑھ کے بول رہا ہے.
سوائے چند ایک کے ایسے ٹرینر بھرتی کِیے گئے ہیں جِن کی اپنی انگلش قابلِ رحم ہے.
اپنے سکولز میں پڑھانے میں صفر.
موٹیویشنل skills زیرو….
اور کروا رہے ہیں پیلی….!
ٹریننگ سنٹرز میں سوائے وقت گُزاری کے کُچھ نہیں….
دیہاڑیاں البتہ پُوری لگ رہی ہیں.
اِس کا نتیجہ کیا ہوگا.
ڈھاک کے تین پات…..!
وقت کا ضیاع الگ….!
سرکاری خزانے کو ٹِیکا پُورا بھر کر…!

اگر آپ کے ذہن میں یہ آتا ہے کہ میں یہ تائثر دینے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ٹریننگ بالکُل فضُول کام ہے تو آپ غلط سوچ رہے ہیں میرا مطلب ایسا ہر گز نہیں.
میں دراصل یہ کہہ رہا ہُوں کہ ٹرینرز کے انتخاب کا طریقہ فضُول ہے جو غیر پیشہ ورانہ لوگوں کو بھرتی کررہا ہے.

ٹرینرز کی مونیٹرنگ کا طریقہ فضُول ہے

ٹرینرز کی مونیٹرنگ کا طریقہ فضُول ہے جو یہ پتہ ہی نہیں چلا پا رہا کہ ٹرینرز مجوزہ ضابطہ اخلاق کی پیروی کر رہے ہیں کہ نہیں.
بہترین حل یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ بات ذہن نشیں کی جائے “کہ ہر شخص ٹرینر نہیں بن سکتا”.
تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے.
بے باک اور غیر مصلحت پسند ماہرین اِس کمیٹی میں شامل کیے جائیں.
اب تک بھرتی کر لیے جانے والے ٹرینرز کی تحقیقات کی جائیں, وہ کِس حد تک مؤثر ہیں.
غیر موئثر اور دیہاڑی دار ٹرینرز کی فوری چھُٹی کروائی جائے اور اُن کی جگہ انرجیٹک اور پروفیشنل لوگوں کو بھرتی کیا جائے…

ورنہ یہ تائثر مزید مضبُوط ہو گا کہ QAED پنجاب محکمہ تعلیم کا سُفید ہاتھی ہے.

IsmailCh