Children's Passionate age 13 to 18 years fi
تعلیم و تربیت

نو جوانو ں کا جوشیلا دور 13 سے 18

مجموعی مزاج:

نوجوان یعنی 13 سے 18 سال تک کی عمر کے بچے اپنی زندگی کے جوشیلے ترین دور سے گزررہے ہوتے ہیں ۔اس عمرکے بچوں میں جذبات اپنی انتہائی بلندی پر ہوتے ہیں۔ دوست یاروں پر جان نچھاور کرنا ، ہر حال میں اپنی مرضی کرنا اور اپنے آپ کوسب سے اچھا سمجھنا اس عمر کے بچوں کا عمومی رویہ ہوتا ہے۔اس کے ساتھ سا تھ یہ نوجوان ایک مثالی شخصیت(رول ماڈل) یامربی کی تلاش میں بھی رہتے ہیں اور اگر وہ شخصیت مل جائے تو اس کی اطاعت قبول کرلیتے ہیں۔

مثبت رویے:

دوست یار پسند: اس عمر میں بچے اپنے دوستوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
لڑکے گھر سے باہر رہنے اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ لڑکیاں اپنی سہیلیوں سے باتیں کرنا پسند کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کے بجائے دوستوں اور ہم جولیوں کی بات زیادہ مانتے ہیں۔
بے لوث خدمت: اچھی تعلیم و تربیت کے ذریعے اس عمر کے بچوں میں انسانیت سے محبت اور بے لوثChildren's Passionate age 13 to 18 years

خدمت کا جذبہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔لوگوں کی مدد کرنے ،ان پر خرچ کرنے اور اُن کے مسائل حل کرنے کا جذبہ بھی اسی عمر میں پڑوان چڑھتا ہے۔فلاحی کام کرنا، محلے ،اسکول اور کالج میں تقریبات منعقد کروانا نوجوانوں کے مزاج کا حصہ ہوتا ہے۔اسی عمر میں بچےکسی دینی تحریک، طلبا تنظیم یا فلاحی ادارے کے ساتھ کام کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں۔
قربانی کا جذبہ: اس عمر کے بچے ہر بہترچیز اپنے لیے پسند کرتے ہیں،اور اپنی من پسند چیزیں اپنے دوستوں یاروں کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ کھاتے پیتےہیں اور ایک دوسرے پر پیسےبھی خرچ کرتے ہیں۔ غریبوں کی مدد کا جذبہ بھی اس عمر میں پیدا ہوتا ہے۔ بھوکوں کو کھانا کھلانا ہو یا اپنے کپڑے غریبوں کو دینا ہو، ایک اشارے پر قربان کرنے کے لیے تیارہوجاتےہیں۔
اچھا لگنا: اچھا لباس پہننا اور اچھا نظر آنا ایک فطری بات ہے ۔ اس عمر کے بچوں میں یہ جذبہ بہت نمایاں ہوتاہے۔ جنسِ مخالف کے سامنے اچھا نظر آنا بہت ضروری سمجھا جاتا ہے ۔صاف ستھرا رہنا، بال سنوار کر رکھنا، اچھے لباس کا انتخاب کرنا اسی رویے کی علامات ہیں۔

منفی رویہ:

خود پسندی: خود پسندی اس عمر کے نوجوانوں کے مزاج کا حصہ ہوتی ہے ۔اپنے ہر فیصلے کو صحیح اور اپنی ہر بات کو درست سمجھتے ہیں۔ اپنی مخالفت کو سخت نا پسند کرتے ہیں۔ والدین اگر زبردستی کریں تو سخت مزاحمت کرتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے بات ماننی پڑجائے تو انتہائی ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ زیادہ زبردستی کرنےپر جواب بھی دے دیتے ہیں اور کبھی کبھی بدتمیزی بھی کرلیتےہیں۔
غیر سنجیدگی: مذاق کرنانوجوانوں کوبہت پسند ہوتا ہے۔ سنجیدہ باتوں کو بھی مذاق میں لیتے ہیں۔ اپنے مستقل کے بارے میں بھی غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ بڑوں کی گفتگو کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ موسیقی کےشوقین ہوتے ہیں۔گفتگو کے دوران بھی ہیڈفون لگا کر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتےہیں۔
غصہ کرنا: اپنی بات منوانےکی خاطر یا اپنی رائے کی مخالفت کی وجہ سےنوجوان جلد غصّےمیں آجاتے ہیں۔کبھی کبھار اپنے بڑوں، والدین اور اساتذہ پر بھی غصّہ کرجاتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کا سخت رویہ بچوں کی اس کیفیت کو بڑھا دیتا ہے جبکہ نرم اور دوستانہ رویے کی مدد سے غصے کی کیفیت کو کم کیا جاسکتا ہے۔ اچھی تربیت سے یہ رویہ 18 سال کی عمر تک ختم ہو سکتا ہے۔

خود تجربی:

اس عمر کے بچوں کو حکم ماننا بالکل پسند نہیں ہوتا اور وہ ہر کام میں اپنی مرضی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہی Children's Passionate age 13 to 18 years 2

حکم مشورے کی صورت میں دیا جائے تو قبول کرلیتے ہیں۔ ہر کام کا خود تجربہ کرکے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اپنی من مانی کر کے نقصان اٹھاتے ہیں، پھر سیکھتے ہیں۔ بڑوں کے مشورے سننا تو چاہتے ہیں، لیکن حکمیہ انداز پسند نہیں کرتے۔
گھر سے فرار : اس عمر کے لڑکے گھر کے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ان کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ وقت گھر کے باہر گزارا جائے ۔ لڑکیاں اپنی دوستوں اور ہم عمررشتہ داروں کے گھر جانا پسند کرتی ہیں ۔ان سے بات چیت کرنا اور فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے سے منسلک رہنا چاہتی ہیں ۔نوجوان اپنی مرضی پوری کرنے کے لیے گھر سے فرار کا رستہ اختیار کرتے ہیں۔ جن گھروں میں ان کی نفسیات کا خیال رکھا جاتا ہے وہاں ان کا رویہ برعکس ہوتا ہے۔ ایسے لڑکے والدین ہی میں سے کسی ایک کو اپنا رول ماڈل بنالیتے ہیں۔

طرز زندگی:

اس عمر میں نوجوان اپنی مرضی کا طرز زندگی چاہتے ہیں۔ والدین کے طرز زندگی کو لاشعوری طور پر تو اختیار کرسکتا ہے لیکن اگر اس پر سختی کی جائے تو ان کی مخالفت میں اپنا طرز زندگی تبدیل کرلیتا ہے۔ صبح دیر سے اٹھنا، رات دیر تک جاگنا، کمرہ بند کر لینا، بے وقت کھانا، انٹر نیٹ کا بے تحاشہ استعمال، غیر صحت بخش غذا (Junk Food) کا عادی ہونا، اس عمر کا خاصہ ہے۔ والدین اور اساتذہ کی اچھی تربیت سے ہی بچوں کو اس کیفیت سے نکالا جا سکتا ہے۔

سیکھنے کا عمل:

اس عمر کے بچے بڑوں کی طرح سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔ مطالعے اور کتب بینی کے ذریعے عملی اور نظری ہر طرح کے تصورات سمجھ سکتے ہیں۔ تخیل کے ذریعے ان دیکھی چیزوں پر یقین بھی کر سکتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں مشکل سوالات اٹھاتے ہیں اور اس کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن پاک سمجھ کر پڑھ سکتے ہیں۔ سیرت طیبہ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ اپنے شوق کے مطابق کتب کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

تجارتی لین دین:

اس عمر میں اگر نوجوانوں کو تجارت سکھا دی جائے تو وہ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ کم قیمت پر اشیا خریدنا اور منافع رکھ کر بیچنا بہت کچھ سکھاتا ہے۔خریداری کے وقت قیمت کم کروانا اور نہ بکنے پر رعایت دینا، زندگی کی گتھیوں کو سلجھانے کا رستہ سجھاتا ہے۔ گاہگ سے بھاؤ تاؤ کرنا، ابلاغ کی صلاحیتیں بڑھاتا ہے۔ نوجوانوں کی جھجک ختم ہوتی ہے اور ان کا اعتماد بڑھتا ہے۔

مثالی شخصیت کی تلاش:

اس عمر کے نوجوانوں میں اپنی من مانی کے ساتھ ساتھ ایک مثالی شخصیت کی تلاش مستقل جاری رہتی ہے۔ جس سے متاثر ہو کر یہ نوجوان اس جیسا بننے اور اس کی اطاعت کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ یہ شخصیت زندگی کے مختلف شعبوں میں مختلف ہو سکتی ہے۔ مستقبل میں کامیابی کے لیے کوئی شخصیت، کھیل کے لیے کوئی اور شخصیت اور مذہبی اور اخلاقی تربیت کے لیے کوئی اور۔ والدین کو چاہیے کہ یا تو وہ خود ان بچوں کے رہنما بن جائیں یا ان کو کسی مربی، استاد یا کوچ کے وابستہ کردیں۔
چونکہ بچہ چھوٹی عمر میں والدین کی ہر بات مان رہا ہوتا ہے۔ والدین بڑ ھتی ہوئی عمر کےتقاضوں کو نہ سمجھ کر بڑے بچوں پر بھی اپنی مرضی ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ماننے پر سختی کر دیتے ہیں۔ یہ سختی اس عمر کے بچوں میں بغاوت پیدا کر دیتی ہے۔
اس عمر کے خاص مزاج کو سامنے رکھ کر بچوں کے ساتھ معاملات کیے جائیں تو یہ بچے اپنے منفی رویے ترک کرکے مثبت رویوں کی طرف آ جاتے ہیں۔ والدین کا نرم اور دوستانہ رویہ بچوں کی تربیت میں خا صا مددگار ثابت ہوتا ہے۔

عبیرہ فاطمہ
عبیرہ فاطمہ
تیزی سے بدلتی دنیا میں اپنے اصولوں پر قائم روح