تعلیمی نیوز روم

نیاتعلیمی سال 2019 طلبہ کی حاضری نئےداخلے اور مسائل

⏮پنجاب بھر میں یکم اپریل 2019 سے باقاعدہ طور پر نئے تعلیمی سال کا آغاز ہورہا ہے، اس ضمن میں سرکاری سکولز میں چند ایشوز کا سامنا کیا جارہا ہے۔۔
۔ان میں سے ایک “طلبہ کی حاضری یقینی بنانا/برقرار رکھنا”

کئی بچے گزشتہ تعلیمی سیشن میں پرائیویٹ سکولز میں چلے گئے
چند طلبہ علاقے سے نقل مکانی کرگئے
کچھ بچے اوور ایج یا غربت/کمزور معاشی حالت کی وجہ سے مزدوری کرنے لگے⤵️

  1. پہلی بات تو یہ ہے کہ یکم اپریل 2019 سے “ری ٹینشن/طلبہ کی برقراریت” نئے سرے سے شروع ہوگی، یعنی اپریل 2019 تا مارچ 2020 کے دوران زیادہ سے زیادہ تعداد کا موازنہ کیا جائے گا۔
  2. اس کے لیے ضروری ہے کہ 31 مارچ تک تمام بوگس داخلے، سکول چھوڑنے والے طلبہ کو ٹھوس ثبوت کے ساتھ خارج کردیا جائے۔
  3. جو بچے پرائیویٹ سکولز جوائن کرچکے ہیں، ان کو “سکول چھوڑنے کا سرٹیفیکٹ” جاری کریں اور متعلقہ پرائیویٹ سکول سے تصدیقی سرٹیفیکٹ حاصل کریں کہ وہ بچے ان کے سکول میں داخل ہیں۔۔۔اس میں داخلہ نمبر ،بچے کا نام، ولدیت اور داخلہ تاریخ درج ہو
  4. جو بچے نقل مکانی کرچکے ہیں، ان کی تصدیق کریں اور ان کو بھی “سکول چھوڑنے کا سرٹیفیکٹ” جاری کیجیے۔ تصدیق کے لیے ان کے رشتہ داروں یا ہمسایوں سے دست خط شدہ درخواست رکارڈ میں رکھیے۔ ممکن ہو تو ان والدین سے رابطہ کرکے ان بچوں کا رکارڈ جمع کیا جائے کہ آیا کس سکول میں داخل ہیں یا نہیں
  5. جو بچے غربت یا کمزور معاشی حالت کی وجہ سے سکول چھوڑکر مزدوری کررہے ہیں، ان کھ والدین سے لکھوا لیجیے کہ وہ اپنی رضامندی اور ذاتی مجبوری کی وجہ سے بچوں کو سکول نہیں بھیجنا چاہتے۔
  6. 31 اکتوبر 2018 اور 31 اکتوبر 2019 کی تعداد برابر یا زیادہ ہونی چاہیے۔ نئے داخلے اس مطابق ممکن بنائیے۔

مندرجہ بالا تجاویز تھوڑی سی محنت اور توجہ سے قابل عمل ہیں اور سال بھر پیش آنے والی پریشانیوں سے محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ ہے۔

تعلیمی نیوز گروپ
تعلیمی نیوز گروپ
علمی دنیا سے تازہ ترین خبریں شائع کرنے میں سر گرم ✰ آپ کے تبصرات اس نا چیز کو مزید خدمت کا شوق مہیا کرتے ہیں!