pak primary school fi
سوچ بچار

پرائمری سکولز اور اساتذہ کی حالت زار

pak primary school

ایک پرائمری سکول کا استاد جب ایک دن اس بچے سے مخاطب ہوا جو دس دن چھٹیاں کرکے سکول تشریف لایا کہ سکول کیوں نہیں آئے؟

جواب میں اسی بچے کا ہنسی ملی بس، وہ استاد صاحب کہتے ہیں کہ کیا یہ حالت پرائیویٹ سکولز میں بھی ہے؟

نہیں، کیونکہ وہ آزاد ہیں اسی لئے کامیاب ہیں۔ یہاں تو بچے کے ساتھ سخت بولنا بھی پیڈا ایکٹ لگنے کا سبب بنتا ہے، استاد کی بات سے ذرا آگے چلتے ہیں جہاں استاد کو قوم کا محسن قرار دیا جاتا ہے، جہاں استاد کی حوصلہ افزائ کی جاتی ہے۔

قوم کا بام عروج اگر استاد کی وجہ سے ہوسکتا ہے تو زوال کا سبب بھی یقیناً استاد ہی ہو گا، جس طرح زندگی کے شعبے مختلف ہیں اسی طرح استادوں کی بھی مختلف اقسام ہیں، ہر وہ فرد استاد ہوتا ہے جو کسی کو زندگی میں بہتری لانے کےلئے کچھ بھی سکھاتا ہے وہ استاد ان پڑھ بھی ہوسکتا ہے اور پڑھا لکھا بھی۔

یعنی استاد استاد ہوتا ہے اس کی ڈگری کو نہیں اس کے سکھانے کے عمل کو دیکھا جاتا ہے۔ ایسا ہو یا نہیں مجھے یہی لگتا ہے، جس طرح میں نے کہا کہ استاد مختلف قسم کے ہوتے ہیں اس کا مطلب یہی ہے کہ حمام پہ کھڑا نائی بھی استاد ہوتا ہے اور گوشت کے پھٹہ پہ کھڑا قصائی بھی، چوروں اور ڈکیتوں کے بھی استاد ہوتے ہیں جو انہیں یہ کام سکھاتے ہیں اگرچہ یہ زندگی کو بہتر نہیں بدتر بناتے ہیں، حتیٰ کہ جیب کترے بھی استاد سے سیکھ کر ہی جیب کاٹ سکتے ہیں۔

فخر محسوس ہوتا ہو گا اساتذہ سے لیٹرین صاف کروا کے

پچھلے دنوں میرے دوست کے والد مرحوم وفات پاگئے جن کی نماز جنازہ کے بعد ہجوم میں چند جیب کتروں نے اکثر مسلمانوں کی جیبیں کاٹ ڈالیں، اس کے بعد اکثر نے تو جنازہ پڑھنے کے ثواب کو فرض کفایہ جانا اور کہا کہ صوبے، ضلع یا تحصیل سے ایک بندہ ہی کافی ہے۔

اب ہم بات کرتے ہیں اس استاد کی جس نے آپ کو الف الف مد آ اور ب، پ کا سبق سکھایا ہوگا، گنتی، پہاڑے وغیرہ بھی سکھائے ہوں گے یقیناً اس استاد نے آپ کو ی یکہ تک سبق یاد کروایا ہوگا، یقیناً اس استاد نے آپ کو بیٹا اور اچھا بچہ بھی کہا ہوگا۔

یہ استاد کی وہ قسم ہے جس نے قوم کو بام عروج تک پہنچایا اور پھر قوم نے ترقی کرکے اس قسم کے استاد کو ٹیچر اور ٹیوٹر کا درجہ بخشا، اس میں اس استاد کی یقیناً اپنی نیت بھی شامل تھی۔

معلوم نہیں یہ پیار کیا ہوتا ہے؟ کیا وہی پیار ہوتا ہے جس میں نئی نسل کو برباد کیا جاتا ہے، ادب کے بغیر علم کی روح نکل کر رہ جاتی ہے علم میں طاقت نہیں رہ جاتی اور وہ علم نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

استاد کے خلاف اکثر ایسے لوگ لکھا کرتے ہیں جو استاد کے احسان کو بھول نہیں پاتے، ان کو استاد نے اتنا لکھنا سکھایا ہوتا ہے کہ استاد کو عزت بخشتے جاتے ہیں۔

سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کا آپ جانتے ہوں گے، مجھے پنجاب کے خاص کر بہاولپور ضلع کے پرائمری سکول چاہے زنانہ ہیں یا مردانہ دیکھنے کا موقع ملا۔
بڑا فخر محسوس ہوا ہوگا مراد راس کو بھی اور سابق وزراء تعلیم کو بھی کہ آج تک پرائمری سکولز میں درجہ چہارم کا عملہ نہیں دیا گیا، ہونا تو یہ چاہیئے کہ یونیورسٹی اور کالجز اور ہائی سکولز کے بچے صفائ کرتے تاکہ صفائی آدھا ایمان ثابت ہوتی مگر حقیقت یہی ہے کہ معصوم بچوں سے صفائیاں کروانے کا سلسلہ جاری ہے۔

بڑا فخر محسوس ہوتا ہوگا وزیر تعلیم و اعلی افسران کو کہ ایک پرائمری سکول کا استاد خود لیٹرین صاف کرے تاکہ تبدیلی آسکے، مالی کا کام بھی اسے ہی کرنا ہوگا کیونکہ اس سے بہتر تبدیلی ممکن نہیں، ہر دو گھنٹے بعد پروفارمے ملیں گے جو پرائمری استاد نے کلاس کو چھوڑ کر فل کرنا ہوں گے، یعنی پرائمری سکول کے اساتزہ کرام کلرک بادشاہ والا کام بھی بخوبی سر انجام دیں گے اور سب سے بڑی خوشی کی بات جس پہ پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہونا چاہئے کہ پرائمری ٹیچرز ہی انرولمنٹ میں اضافہ کریں۔ آبادی ہے یا نہیں اضافہ کیجے، جیسے بھی کیجے، ادھر جناب ثاقب نثار اور نیازی صاحب کہتے ہیں کہ بچے کم پیدا کریں اور ادھر انرولمنٹ میں اضافہ۔

وہ سب حکومتی اہلکار جو سرکاری سکول کی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں ہر پرائمری سکول کے ساتھ ایک پیف کا سکول دیا ہے، انتظامیہ ایسے نشے میں دھت پڑی ہے کہ ائیر کنڈیشنز رومز سے باہر نکل کر بنیادی مسائل جنہیں Root causes کہا جائے گا کا علم ہی نہیں۔
کیا کبھی یونین کونسل کے چیئرمین یا ایم این اے ایم پی اے نے انرولمنٹ مہم میں حصہ لیا یا اپنے بچے سرکاری سکولز میں داخل کروائے؟ نہیں!

یہ سب جنازے میں بھی جیب کاٹنے کےلیۓ تیار پھرتے ہیں بس انہیں یہی کام سکھایا گیا وہ کررہے ہیں.

اصلاحات کوئی مرد مومن ہی کرسکتا ہے

مراد راس صاحب یا تبدیلی سرکار سب دھوکا ہے یہ سب جیب کترے ہیں اور ان کے استاد بھی جیب کترے ہیں جنہوں نے بڑی مہارت سے جیب کاٹنا سکھایا، یہ بلیڈ لیئے پھرتے ہیں جہاں موقع ملتا ہے کٹ کی آواز آتی ہے،
کبھی ریشنلائزیشن کی دھمکی تو کبھی انرولمنٹ کی دھمکی، کبھی ریٹنشن تو کبھی اٹینشن بس، ان کی آنی جانی دیکھیئے۔
تعلیمی اصلاحات کوئی مرد مومن کرسکتا ہے ان جیسا جیب کترا نہیں۔

جس بندے کو یہ نہیں معلوم کہ بچہ استاد کے سر چڑھ چکا ہے اس وقت استاد کی وہ عزت نہیں رہی، خدا کی قسم پرائمری ٹیچرز بچوں کی منتیں کررہے ہوتے ہیں لیکن بچہ کہتا ہے نہیں سر میں کل اگلے سکول چلا جاؤں گا، میرا دل نہیں کرتا پڑھنے کو، آج سر میں درد ہے، میں نے شادی پہ جانا ہے، میں نے پانی لگوانا ہے,، قل خوانی ہے، سو سو بہانے۔

جب تک یہ ارباب اختیار یکساں نظام تعلیم رائج نہیں کریں رزلٹ یہی ملے گا بلکہ افسران کے خوف سے ٹیچرز تسبیحاں پڑھتے ہیں اور ہزار ہزار ورد کرنے لگتے ہیں، اگر چھت پہ مٹی لگی ہے یا جالے لگے ہیں تو ایک عمدہ تحریر کیا ہوا شوکاز تو بنتا ہے، اگر بچے سکول نہیں آئے تو استاد صاحب کی پیشی پکی ہے، واہ بہت خوب۔

اس سے بڑھ کر تکالیف کا سامنا ہے فی میل ٹیچرز کو جن سے وہی کام لیا جاتا ہے جو بتایا جا چکا ہے،

ابھی تو عمران خان اور مراد راس صاحب نے سلیوٹ لگوانے ہیں ٹیچرز کو۔

چھٹی تب تک گناہ ہے جب تک ایم ای اے کا وزٹ نہ ہوجائے، کسی کی وفات ہوجائے تو قبر دیکھنے چلے جائیں یا پھر کوشش کریں فوتگی اتوار والے دن کروا لیں یا جمعہ سیکنڈ ٹائم۔

قل خوانی اور جمعراتیں، برسیاں یہ سب عزیز طلباء و طالبات کےلیئے چھوڑ دیں۔

اگر حالت یہی رہی اور Root causes کی طرف توجہ نہ دی گئی یا اساتذہ کی کمیٹیاں بنا کر مسائل نہ حل ہوئے تو کیا ہونا ہے ہوگا یہی مہنگائی اور کرپشن کا رونا، رشوت و حرام خوری کا بازار گرم۔

اگر اس قسم کے استاد کے ساتھ یہی برتاؤ جاری رہا تو ملک میں طوفان بھی آئیں گے اور زلزلے بھی، یہ سچ ہے کیونکہ ایسے بزرگ اساتذہ جن کی زندگیاں ان کے ہی سٹوڈنٹس نے اجیرن بنا دی ہیں ان کےلیئے نہ چاہتے بھی آہیں اور سسکیاں نکلتی ہیں۔
اور استاد کی سسکی چاہے عام سی ہو ردعمل ضرور لاتی ہے۔ یعنی
دل سے جو بات نکلے وہ اثر رکھتی ہے
پر نہیں مگر طاقت پرواز رکھتی ہے

جناب وزیر تعلیم پنجاب صاحب اگر سکولز میں بہتری لانی ہے تو ٹیچرز سے رابطہ قائم کیا جائے بنیادی مسائل کا سراغ لگا کر مسائل حل کیئے جائیں۔

والدین کےلیئے بھی سختی رکھی جائے کہ وہ اپنے بچے کے ساتھ مخلص ہوجائیں اور اتنی توجہ دیں جتنی پرائیویٹ سکولز کے بچوں پہ دیتے ہیں ورنہ پرائمری سرکاری سکولز بند کردئیے جائیں تاکہ استاد کی عزت باقی رہ جائے۔

استاد تو استاد ہوتا ہے

یاد رہے جو کچھ میں نے پنجاب کے دیہاتی سکولز میں دیکھا وہ لکھا اس تحریر کا آپ کے قریبی سکول سے کوئی واسطہ نہیں۔

التجا یہی ہے کہ پرائمری ٹیچرز سے صرف پڑھانے کا کام لیا جائے۔
این ایس بی کےلیۓ ایک اور سیٹ ہو یا پھر یہ ذمہ اے ای او صاحبان جیسی کسی اور شخصیات کا انتظام کیا جائے۔

جب سسٹم آنلائن ہے تو ایک ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پوری تحصیل کو قابو کر سکتا ہے لیکن اگر اس سے بھی باقی کام لیئے جاتے رہیں تو پھر بیس بیس لوگ ایک تحصیل کےلیئے کم ہوں گے۔

آپ اپنے دل پہ ہاتھ رکھیئے اور خدا کو حاضر ناظر جان کر جواب دیجے، انصاف کیجئے کہ کیا پرائمری سکولز جن میں ہماری نئی پنیری پروان چڑھ رہی ہے کےلیئے نظام ٹھیک چل رہا ہے؟ ایلیمنٹری اور ہائی سکولز کےلیئے درجہ چہارم ہے مگر پرائمری سکولز کےلیئے کیوں نہیں؟

اساتزہ کرام کی یونینز سے بھی صدقے جاؤں تنخواہ اور مراعات کےلیئے روتے ہیں مگر اصل نظام کو گلے لگاتے چلے جاتے ہیں۔

آگے بڑھیئے اور اپنی قوم جس کا مقدر آپ کے ہاتھ میں ہے کو محفوظ کیجے۔

اپنی قوم کےلیئے کچھ کر جائیں، موت آگئی تو قبر میں اس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہونے اور اس پاک شعبے کے متعلق کیا جواب دیں گے؟
روٹی کی لڑائی چھوڑ کر وزیر تعلیم و ارباب اختیار کا گریبان پکڑیئے اس سے پہلے کہ معصوم بچے آپکا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑ دیں.

آپ استاد ہیں تو اس ملت کا ہر ستارہ تمہارے پاس چمک لینے کو موجود ہے اس ہر ستارے میں نور پیدا کیجئے کہ بال و پر اور روح الامیں کی کیفیت طاری ہوجائے۔
استاد کو چاہیے کہ دین اسلام کی تعلیمات کو قوم تک پہنچادے اور ان کی روحوں تک اتار دے کہ صنم خانے میں پڑے بت اوندھے منہ گر پڑیں اور ہر سمت ایک ہی آواز ہو
اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی اللہ کے آخری رسول ہیں۔

استاد خالی ہوگا یا جیب کترا ہوگا تو بچہ بھی جیب کترا بنے گا، استاد کو چاہیئے کہ اپنے مقام کو پہچانے اور مراد راس صاحب کو چاہیئے کہ آج کے استاد پہ لطیفے سنا کر مزے نہ لیا کرے کیونکہ یہ استاد ہے اور استاد تو استاد ہوتا ہے۔

تحریر… ابو ولی اللہ

عبیرہ فاطمہ
عبیرہ فاطمہ
تیزی سے بدلتی دنیا میں اپنے اصولوں پر قائم روح