Parents love fi
تعلیم و تربیت سوچ بچار

پیار، محبت، اُلفت یا غفلت

Parents love

ہم اپنے بچوں کے ساتھ بے حد پیار،محبت اور اُلفت کرتے ہیں اگر میں یہ کہوں کہ ہم اندھا دھند عشق کرتے ہیں تو بھی غلط نہ ہوگاہم سب والدین کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے بچے بہترین زندگی گزاریں ان کو کبھی بھی کوئی مصیبت نہ آئے انہیں کڑی دُھوپ میں چلنا نہ پڑے اور اس بے رحم معاشرے کے سفاک اور گھیٹا لوگوں سے ہمارے بچوں کا واسطہ نہ پڑے۔

جتنا ہم اپنے بچے کو دُنیا سے محفوظ رکھتے ہیں اتنا ہی ہم ان سے عشق کرتے ہیں اور وہ جس چیز کی خواہش کرتے ہیں ہم بچوں کی ہر وہ خواہشات پوری کرتے ہیں وہی چاہت ہماری دیوانگی کا ثبوت ہے
یہ سب ہمارے مغالطے ہیں۔

حقیقت اس سے مختلف ہے بچوں پر ایک ظلم تو ہم یہ کرتے ہیں کہ ہم انہیں اپنی مرضی کی زندگی جینے کی اجازت نہیں دیتے یہاں تک کہ انکی شادی کے بعد بھی والدین مع دیگر رشتہ دارنوبیاہتا جوڑے کے ساتھ ہنی مون پر بھی ساتھ چل پڑتے ہیں۔ جس معاشرے میں شادی شدہ اولاد کے ساتھ اس رویےّ کو محبت کی معراج تصور کیا جاتا ہو وہاں جوان ہوتی ہوئی اولاد کو کتنا بچا کر رکھا جاتا ہوگا۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

بچوں کے ساتھ دوسرا ظلم یہ کرتے ہیں کہ ان کی’’مہا حفاظت‘‘ کرتے ہیں۔ یہ بیماری اپر مڈل کلاس میں زیادہ ہے۔ بچی اٹھارہ سال کی ہوگئی ہے، اس کا ڈرائیونگ لائسنس بننا ہے، اس کے لیے فلاں بندے کو فون کرو تاکہ وہ بغیر جھنجھٹ کے لائسنس بنوا لے۔

لڑکے/لڑکی کا بینک میں کھاتہ کھلوانہ ہے تو بینک منیجر کو فون کرو کہ ہم آرہے ہیں، تمام فارم پر کرکے رکھے، بچہ بس آنکھیں بند کرکے دستخط کرے گا۔

بچوں کے داخلہ فارم تک ہم خودپر کرتے ہیں، انہوں نے لاہور سے اسلام آباد جانا ہو تو بس کی ٹکٹ ان کے ہاتھ پر رکھتے ہیں،

کسی سرکاری دفتر میں ان کا جانا ضروری ہے تو پہلے کوئی سفارش ڈھونڈتے ہیں تاکہ ہمارا بچہ ایک سے دوسرے دفتر میں چکر ہی نہ کاٹتا رہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ بچے بس دل لگا کر پڑھیں اوراعلیٰ ٰنمبر لیں۔

آن لائن ٹکٹ کیسے خریدنی ہے،

شناختی کارڈ کیسے بنوانا ہے،

بینک میں کھاتہ کیسے کھلوانا ہے،

بیمہ کیسے کروانا ہے،

پاسپورٹ کیسے بنوانا ہے۔

یہ باتیں سیکھنا ضروری نہیں سمجھتے بلکہ، امتحان میں اچھےنمبر لینے زیادہ ضروری سمجھتےہیں۔ بچوں کی اس مہا حفاظت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے کالج/یونیورسٹی سے نکلتے ہیں تو انہیں عملی دنیا کا کچھ پتہ نہیں ہوتا، یکدم جب انہیں نصابی تعلیم سے باہر نکل کر اس بےرحم دنیا کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتے کیونکہ ہم نے انہیں سوائے پڑھائی کے کوئی کام سکھایا ہی نہیں ہوتا۔

یہ زندگی کی مہارت سکھانے کی فیس ہے

میں نصابی پڑھائی کے خلاف نہیں، اسکول کی پڑھائی بنیاد بنانے کے لیے ازحد ضروری ہے،  جو باتیں ایک دفعہ اسکولوں میں بتادی جاتی ہیں وہ زندگی میں دوبارہ کوئی نہیں بتاتا، مگر اسکول کی پڑھائی کے ساتھ یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ آپ کا بچہ لائف اسکلز(زندگی گزارنے کی مہارت ) سیکھے، جونہی آپ کا بیٹا یا بیٹی اٹھارہ سال کا ہو اسے کہیں کہ نادرا کے دفتر جائے، ٹوکن لے اور قطار میں کھڑا ہو کر اپنا شناختی کارڈ بنوائے، نادرا والے ا س سے کچھ کاغذات مکمل کروائیں گے وہ کاغذات اکٹھے کرے گا/گی، اس کے دو ہفتوں بعد شناختی کارڈ ملے گا،

اسی طرح ایک عام آدمی کی طرح وہ اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوائے، بینک میں کھاتہ کھلوائے، تمام فارم خود پر کرے، اپنا اے ٹی ایم کارڈ بنوائے، پاسپورٹ بنوائے۔

جس دن آپ کا لڑکا/ لڑکی یہ تمام کام خود کر لے اس دن آپ دھوم دھام سے اس کی اٹھارہویں سالگرہ منائیں،
اس دوران وہ اتنا کچھ سیکھ چکا/چکی ہوگا /گی جو بارہ برس کی اسکولنگ میں نہیں سیکھ پایا ہوگا۔

ایک کام اور کریں، جتنے پیسے آپ اس کی تین ماہ کی اسکول فیس کے بھرتے ہیں، اتنی رقم اس کے بینک میں جمع کروا دیں اور اسے کہیں کہ وہ ان پیسوں سے اپنی مرضی کا کوئی بھی’’کاروبار‘‘ کرکے منافع کمانے کی کوشش کرے، یہ کام کچھ بھی ہوسکتا ہے، مثلاً کپڑے ڈیزائن کرکے کسی بوتیک پر رکھوا دے، کسی اسٹاک بروکر کے پاس کھاتہ کھول کر حصص کی خرید و فروخت کرلے یا کہیں سے کوئی شے سستے داموں خرید کر بازار میں بیچ دے۔

آپ اسے کہیں کہ اس بات کی پروا نہیں کرنی کہ پیسے ضائع ہو جائیں گے یا گھاٹا پڑ جائے گا کیونکہ ان پیسوں کے ساتھ اس نے گھر کا کوئی خرچہ نہیں چلانا یہ تمام پیسے اس سوچ کے ساتھ خرچ کرنے ہیں کہ جیسے کہ میں بچے کے اسکول کی فیس ۔

اسطرح یہ اپنے بچے کو زندگی کی مہارت سکھانے کی فیس ہے جو میں نے لازما بھرنی ہے جب آپکا بچہ پاسپورٹ بنوانے جائے گا تو ممکن ہے کوئی ایجنٹ اسے ٹھگ لے، جب وہ بینک میں جائے گا تو ایک کاؤنٹر سے دوسرے کاؤنٹر پر خوار ہوگا، ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کےلئے طویل قطار میں کھڑا ہونا پڑے گا،
پیسے کمانا چاہے گا تو اسے سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ کیا کرنا ہے، پھر اسے پیسے کی قدر محسوس ہوگی،
ان سب مراحل سے گزرنے کے بعد چھ ماہ میں آپ کا بچہ کندن بن جائے گا، دنیا کے وہ اصول سیکھ جائے گا جو کہ کسی بھی اسکول و کالج میں نہیں پڑھائے جاتے۔

اگر اسے یہ اصول سکھانے میں آپ کامیاب ہوجاتے ہیں تو سمجھئے کہ آپ نے اپنے اولاد کے ساتھ محبت کا حق ادا کر دیا ہے۔

عبیرہ فاطمہ
عبیرہ فاطمہ
تیزی سے بدلتی دنیا میں اپنے اصولوں پر قائم روح