journey to destination
تقریر مضمون مقابلہ

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

23rd-March-Pakistan-Day-Celebrate

قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں ، باوجود کانگریس کی تمام ترسازشوں اور انگریزوں کی جانبداری کے، بر صغیر کے مسلمانوں نے بالاآخر ایک علیحدہ وطن حاصل کر ہی لیاتاکہ وہ اپنے تصورات کے مطابق امن و سکون سے زندگی گزاریں اور وہ مذہبی وسماجی احترام اور معاشی خوشحالی حاصل کریں جو انہیں ہندوستان میں متعصب ہندوؤں کی اکثریت تلے حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔

قیام پاکستان کے بعد، پاکستان کا شہری بننے والا ہر شخص اپنا اپنا تصور پاکستان رکھتا تھا اور آج بھی رکھتا ہے۔ کوئی پاکستان میں اسلامی نظام کا قیام چاہتا ہے تو کوئی پاکستان کو فلاحی اور روشن خیال ریاست دیکھنے کا خواہاں ہے تو کوئی پاکستان کو جدید جمہوری ریاست بنانے کا خواہاں ہے۔ سب کے تصورات اور نظریات قابل احترام ہیں لیکن ان تمام تصورات و نظریات اور نظام سے قطع نظر بحیثیت قوم جو ریاستی اجزائے فکر وعمل د رکار ہیں وہ خلوص نیت، مصلحت سے پاک قیادت، ایمانداری، خوداحتسابی، نظم و ضبط، آئین و قانون کی پاسداری ، باہمی سماجی اور دیگرمذاہب و عقائد کا احترام ہیں۔

آگے بڑھنا ہے ۔ خود کو بدلنا ہے

بدقسمتی سے ملک میں موجود ان تصورات اور نظریات کے حامل افراد و جماعتوں کے قول و فعل کے تضادات نے ملک کو اسلامی رہنے دیا اور نہ ہی جمہوری اور فلاحی۔اسلامی نظام کے خواہشمندوں نے فرقہ ورانہ جماعتیں بنا ڈالیں، غیر جمہوری قوتوں کی ہمنوائی کی اور ان کے الہ کار بنے، ملک کو جمہوری دیکھنے والوں نے خو د اپنی جماعتوں میں غیرجمہوری روایتیں پیدا کیں اور ہر جمہوری اصول کی نفی کی۔ ملک کو فلاحی ریاست بنانے والے ملک کے و سائل کو لٹتا دیکھتے رہتے ہیں لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے۔فکری انتشار اور باہمی عدم اعتمادکا یہ عالم ہو گیا ہے کہ ڈیم بنانا ہو یا صوبے بنانا ہو ، بلدیاتی نظام کیسا ہویا تعلیمی نظام کیسا ہو ہم بحیثیت قوم کہیں اتفاق رائے کے قابل نہیں رہے۔

ہر یوم آزادی (یوم پاکستان) زندہ اور بیدار قوموں کے لئے ایک سنگ میل ہوتا ہے تاکہ اس دن وہ ٹھہر کر ایک نظراپنے گزرے ہوئے کل پر ڈالیں ، سرزد ہونے والی کوتاہیوں کی نشاندہی کریں اور آئندہ کے لئے ان غلطیوں کے ارتکاب سے گریز کریں۔ ملک کو اس کے قیام کے بعد حالات و واقعات نے منزل مقصود سے دور کردیا۔ ریاستی اجزائے فکر وعمل کو پس پشت ڈالنے کے باعث ہم ایک ایسی قوم بن گئے ہیں جس کی جڑوں میں بے یقینی ، خودغرضی اور اجتماعی بے حسی رچ بس گئی ہے۔ ہمیں ان تمام قومی بیماریوں سے چھٹکارا پانا ہو گااگر ہم ایک قوم کے طور پر باقی رہنا چاہتے ہوں.

ایک اور یوم پاکستان ہمیں پھر سوچنے کا موقع فراہم کررہا ہے کہ جن مقاصد کے لیے پاکستان بنایا تھا وہ ابھی حاصل نہیں ہوئے ، جو زندگی گزارنے کے لئے پاکستان بنایا تھا وہ ابھی صرف خواب ہے، جو معاشی آزادی چاہتے تھے اس کی منزل ابھی کوسوں دور ہے۔ اس خطے میں ہم اپنے پڑوسی ممالک سے ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔

ہمیں پڑھنا ہے۔۔۔ آگے بڑھنا ہے ۔۔۔۔۔ خود کو بدلنا ہے۔۔۔ اپنی منزل پانے کے لئے۔۔۔۔ اپنی رفتار بڑھانی ہے اور تیز دوڑنا ہے۔۔۔ جوش کے ساتھ۔۔ لیکن ہوش میں رہ کر۔۔۔۔۔

عبیرہ فاطمہ
عبیرہ فاطمہ
تیزی سے بدلتی دنیا میں اپنے اصولوں پر قائم روح