we and our past fi
سوچ بچار

ہم اور ہمارا ماضی

we and our past

آپ کو پتہ ہے انگریزوں کے پاپا جی نہایا نہیں کرتے! ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺑﺪﺑﻮ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯽ!

ﺭﻭﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻗﯿﺼﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻟﻮﺋﯿﺲ ﭼﮩﺎﺭم ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﮔﺌﮯ ﻧﻤﺎﺋﻨﺪﮮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ “ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﺭﻧﺪﮮ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺘﻌﻔﻦ ﮨﮯ”

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﻮﻧﮉﯼ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ “ﻣﻮﻧﭩﯿﺎﺳﺒﺎﻡ” ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔

اللہ انہی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں

ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺧﻮﺩ ﺭﻭﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺳﯿﺎﺡ ﺍﺑﻦ ﻓﻀﻼﻥ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ “ﺭﻭﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻗﯿﺼﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺁﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﺷﺎﮨﯽ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﺮ ﺗﺎ ﮨﮯ، ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﺘﻨﺠﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﯾﺴﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﻣﯿﮟ نےﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ۔”

ﺍﻧﺪﻟﺲ ﻣﯿﮟ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﻠﮑﮧ ” ﺍﯾﺰﺍﺑﯿﻼ “ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﺑﺎﺭ ﻧﮩﺎﺋﯽ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﻤﺎﻣﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﺮﺍ ﺩﯾﺎ۔

ﺍﺳﭙﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ” ﻓﻠﯿﭗ ﺩﻭﻡ” ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﮑﻤﻞ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﯾﺰﺍﺑﯿﻞ ﺩﻭﺋﻢ ﻧﮯ ﻗﺴﻢ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ تک ﺩﺍﺧﻠﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺎﺻﺮﮦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﺳﺎﻝ ﻟﮕﮯ، ﺍﺳﯽ ﺳﺒﺐ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﮔﺌﯽ۔ ﯾﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﯿﮟ۔

ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﯿﺎﺡ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﻟﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﻧﻈﺎﻡ ﺷﻤﺴﯽ ﭘﺮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﺟﯿﺴﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺣﺎﻝ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ!

ﺟﺐ ﻟﻨﺪﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯾﺎﮞ 30 ﺍﻭﺭ 40 ﮨﺰﺍﺭ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﺑﺎﺩﯾﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻣﻠﯿﻦ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﻓﺮﻧﭻ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺑﮭﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺮﻓﯿﻮﻡ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﭘﯿﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮﻣﻨﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔

ﺭﯾﮉ ﺍﯾﮉﯾﻦ ﯾﻮﺭﭘﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﺲ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﯾﻮﺭﭘﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ!

ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﻣﻮﺭﺥ ” ﺩﺭﯾﺒﺎﺭ ” ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ “ﮨﻢ ﯾﻮﺭﭖ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺮﻭﺽ ﮨﯿﮟ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﮈﮬﻨﮓ ﺳﮑﮭﺎ ﯾﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻧﮩﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﺒﺎﺱ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ، ﺟﺐ ﮨﻢ ﻧﻨﮕﮯ ﺩﮬﮍﻧﮕﮯ ﮨﻮﺗﮯ تھے، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺯﻣﺮﺩ، ﯾﺎﻗﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﺐ ﯾﻮﺭﭘﯽ ﮐﻠﯿﺴﺎ ﻧﮩﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﻔﺮ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺻﺮﻑ ﻗﺮﻃﺒﮧ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ 300 ﻋﻮﺍﻣﯽ ﺣﻤﺎﻡ ﺗﮭﮯ۔

پھر وقت پلٹ گیا اور وہ ہم سے ہماری سائنس ہمارا علم ہماری ترقی کے راز لے گئے۔ ہمیں بدلے میں احساس کم تری دے دی۔ ہمیں فیشن نامی لفظ کے ساتھ بے ہودگی دے دی ہمیں ماڈرن بنانے کے نام پر بے حیائی دے دی، ہم نے ان کی دی ہر اس پراڈکٹ کا ویلکم کیا جس سے ہم بری طرح تباہ ہو سکتے تھے۔

انہوں نے ہمیں آزادی کا نام اور ساتھ غلط تعبیریں دے دیں۔ ہم نے اپنے نصابوں میں بغاوت کے اصولوں کو آزادی کے اصول قرار دے کر پڑھانا شروع کر دیا۔ پھر ایسا ہوا کہ ہم نے عیاشی کو کامیاب زندگی سمجھنا شروع کر دیا، پھر ایسا ہوا کہ وہ چاند پر جا رہے تھے ہم انبیاء کی حیات ممات پر بحث کر رہے ہیں۔ وہ مریخ کا سفر کر رہے ہیں ہم 1300 سال پہلے صحابہ کے مسلمان ہونے نا ہونے پر بحث کر رہے ہیں۔ انہوں نے سمندر میں پٹرول کے ذخائر بنانے شروع کر دئے ہم نے پٹرول سے جلاو گیھراو آگ لگاو تحریکیں چلانا شروع کردی۔ رکیں رکیں ابھی بات پوری نہیں ہوئی، انہون نے ادب میں ایسے شاہکار تخلیق کرنے شروع کیے جو افکار بدل دیں۔ ہم نے “لب و رخسار” “چائے کی پیالی” “کالج کی لڑکی لکھنا” شروع کر دیا۔

انہوں نے قرآن کو اپنی لیبارڑری کا حصہ بنا لیا اور ہم نے اچھے قیمتی غلاف بنانا شروع کر دیے اور طاق کی سجاوٹ کے مقابلے شروع کر دئے۔

جناب یوں ہوا وقت نے پلٹا کھایا انہوں نے ممالک فتح کرنا شروع کر دئے ہم نے اپنی فوج کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔ انہوں نے عمر فاروق کی سادگی اپنا لی ہم نے عیاشی اپنا لی۔

جب وہ اپنے بچوں کو زندگی کی حقیقت سکھا رہے ہیں ہم سکول کالج یونیورسیٹوں مین فرسٹ سکینڈ تھرڈ پوزیشن لینے کے گر بتا رہے ہیں۔

پیر محمد کرم شاہ الازہری رح فرمایا کرتے تھے، آٸندہ جنگیں میدان جنگ میں نہیں کلاس رومز میں لڑی جاٸیں گی۔

آج ہم نٸی نسلوں کو مادیت پرستی کی جس بھٹی میں جھونک رہے ہیں اس کا آغاز ماڈرن، جدت، ترقی کے الفاظ سے کر رہے ہیں۔ تن آسانی کو سکون کا نام دیا جا رہا ہے پیسے کو ترقی اور کامیابی کا، بد تہذیبی کو سٹاٸل کا۔

وہ جینا بتا رہے ہیں ہم آپس میں جیتنا سکھا رہے ہیں، وہ ہنر اور فنون کے مقابلے کر رہے تھے ہم ڈانس شوز اور رمضان ٹرانسمیشنز میں ڈانس شوز کے مقابلے کر رہے تھے۔ ان کے بچے ساٸنسی ایجادات میں دنیا سے آگے نکل رہے تھے ہمارے بچے ڈانس سنگنگ میں مسٹر ولڈ بن رے تھے۔ انہوں نے اپنی بے حیاٸی اور خواہشات کے سامان کو کم کر کے 14 فروری ویلن ٹاٸن ڈے میں جمع کر دیا اور ہم نے اس کو منانے کے لیے میچورٹی کا نیا نعرہ لگایا۔

جب انہوں نے شکیسپیر اور گوٸٹے کے کلام کو الہامی روحانی کلام ثابت کرنے کی کوشش کی عین اس وقت ہم نے اقبال کو مشکل قرار دے کر اپنی نسل کو تن آسان بنانا شروع کر دیا۔

یہ ہے وقت کا پلٹا جو ہمیں خدا نے نہیں دیا ہم خدا پر الزام لگا رہے ہیں خدا وہی ہے زمانہ وہی ہے معیار بدل گئے ہیں اگر مجھ سے آپ ان حالات کی وجہ پوچھو گے تو میں آپ کو سیدھا قلندر لاہوری کی بارگاہ میں لے جاوں گا، اور کہوں گا شکوہ جواب شکوہ پڑھیں، ساری بات سمجھ آجائے گی۔ میٹرک کے نصاب کا حصہ بنا لیں آپ کی آئندہ نسلیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی۔

ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کی کتاب “ترقی کے راز”